ہجیرہ/کاشگل خصوصی رپورٹ
پاکستان زیر انتظام مقبوضہ جموں و کشمیر کے وزیراعظم کی ہجیرہ آمد کے موقع پر علاقے کی فضا کشیدہ ہو گئی جب گورنمنٹ ڈگری کالج کے طلباء اچانک سڑکوں پر نکل آئے۔ طلباء نے کالج چوک کو مکمل طور پر ٹریفک کے لیے بند کر دیا، جس کے باعث مین ہجیرہ بازار اور ملحقہ علاقوں میں شدید ٹریفک جام پیدا ہو گیا۔ گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
احتجاجی طلباء کا کہنا تھا کہ وہ اپنے تعلیمی مسائل کے حل، اساتذہ کی کمی، اور بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کے خلاف بارہا آواز اٹھا چکے ہیں، مگر حکومت کی جانب سے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ وزیراعظم کی آمد کے موقع کو مسئلہ اجاگر کرنے کا بہترین موقع قرار دیتے ہوئے طلباء نے پرامن مگر مؤثر احتجاج کی راہ اپنائی۔
ٹریفک جام کے باعث اسکولوں، دفاتر اور بازاروں تک رسائی مشکل ہو گئی۔ شہریوں نے انتظامیہ سے اپیل کی کہ معاملات کو فوری طور پر حل کرتے ہوئے ٹریفک بحال کی جائے۔
ذرائع کے مطابق ضلعی انتظامیہ طلباء سے مذاکرات کی کوششوں میں مصروف رہی، تاہم مظاہرین نے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ دوسری جانب وزیراعظم کے سکیورٹی اہلکاروں نے حالات پرگہری نظر رکھی ہوئی ہے۔
طلباء نے واضح کیا کہ اگر اُن کے مسائل حل نہ کیے گئے تو وہ احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کریں گے۔ احتجاج کے باعث ہجیرہ میں نظام زندگی کئی گھنٹوں تک مفلوج رہا۔
Share this content:


