مظفر آباد/کاشگل نیوز
پاکستان کے زیر انتظام مقبوضہ جموں کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھورنے قانون ساز اسمبلی کے فلور پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست میں بجلی کی لوڈشیڈنگ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کی بجلی کی ضرورت پہلے 350 میگاواٹ تھی، تاہم بجلی سستی ہونے کے باعث یہ طلب بڑھ کر 600 میگاواٹ سے تجاوز کر چکی ہے، جس کے نتیجے میں بجلی کے نظام پر شدید دباؤ آ چکا ہے۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کے مقابلے میں موجودہ سسٹم اضافی بوجھ برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، جس کی وجہ سے لوڈشیڈنگ کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اس مسئلے کے حل کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے اور نظام کی بہتری کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
خطاب کے دوران وزیراعظم نے احتجاجی سیاست پر بھی تنقید کی اور کہا کہ بدقسمتی سے ہم یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ ہر مسئلے کا فیصلہ سڑکیں بند کر کے کرنا ہے، جو کسی صورت مناسب رویہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسائل کا حل مذاکرات، مشاورت اور آئینی و جمہوری طریقہ کار کے تحت نکالا جانا چاہیے۔
وزیراعظم نے یقین دلایا کہ حکومت عوام کو درپیش بجلی کے مسائل سے آگاہ ہے اور لوڈشیڈنگ میں کمی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
دوسری جانب رات کے اس پہر بھی باغ اور پونچھ میں لوڈشیڈنگ کو لے کر دھرنے جاری ہیں۔
Share this content:


