محکمہ لائیو اسٹاک میں بدعنوانی کا انکشاف ، سرکاری ڈاکٹر پرگھر گھرجا کر فیس وصولی کا الزام

کوٹلی /کاشگل نیوز

پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں محکمہ لائیو اسٹاک اینڈ ڈیری ڈیویلپمنٹ جموں و کشمیر ایک بار پھر عوامی تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔

ضلع کوٹلی میں سرکاری ویٹرنری ڈاکٹر کی جانب سے آن ڈیوٹی ہوتے ہوئے گھر جا کر مویشیوں کا حمل چیک کرنے کے عوض ایک ہزار روپے فیس لینے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس پر عوامی حلقوں میں شدید تشویش اور غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

متاثرہ شہری کے مطابق صبح کے وقت سرکاری ڈسپنسری سے وابستہ ویٹرنری ڈاکٹر کو گھر بلایا گیا، جہاں انہوں نے ایک بھینس اور ایک گائے کا معائنہ کیا۔ ایک جانور خالی جبکہ دوسرے میں حمل کی تصدیق کی گئی، تاہم سرکاری ملازم ہونے کے باوجود ڈاکٹر نے اس سروس کے عوض ایک ہزار روپے فیس طلب کی۔

شہری کا کہنا ہے کہ اگر ڈاکٹر آن ڈیوٹی سرکاری ذمہ داری نبھاتے ہوئے صرف 200 روپے پٹرول کے نام پر لیتے تو بھی قابلِ قبول ہوتا، مگر اس طرح کی وصولی سراسر عوامی استحصال ہے۔

یہ واقعہ محکمہ لائیو اسٹاک کی مجموعی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ جموں و کشمیر میں یہ محکمہ سالانہ ایک ارب 18 کروڑ 58 لاکھ روپے سے زائد بجٹ استعمال کر رہا ہے، جبکہ اس میں کل 1336 ملازمین، جن میں 136 گزٹڈ افسران شامل ہیں، تعینات ہیں۔ اس کے باوجود عام کسان اور مویشی پال حضرات آج بھی سرکاری سہولیات سے محروم اور نجی ویٹرنری ڈاکٹرز پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔

محکمہ کا دعویٰ ہے کہ وہ دودھ، گوشت اور پولٹری کی پیداوار میں اضافے، جانوروں کی بیماریوں کے خاتمے، ویکسینیشن اور دیہی معیشت کی بہتری کے لیے کام کر رہا ہے، مگر عملی طور پر نہ کوئی نمایاں آگاہی مہم دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی اسکیموں کے نتائج عوام کے سامنے ہیں۔ کسان سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر یہ محکمہ فعال ہے تو پھر پنجاب سے آنے والے دودھ، انڈوں، مرغی اور دیگر لائیو اسٹاک مصنوعات میں کمی کیوں نہیں آ رہی؟

بجٹ اخراجات کی تفصیل مزید سنگین صورتحال کی نشاندہی کرتی ہے۔ جانوروں کی فیڈ، ادویات اور آلات کے علاوہ ٹرانسپورٹ کے لیے ایک کروڑ روپے سے زائد، اسٹیشنری پر 46 لاکھ، بجلی بلوں پر 1 کروڑ 29 لاکھ، یوٹیلیٹی بلوں پر 1 کروڑ 35 لاکھ اور ٹیلیفون بلوں کی مد میں 19 لاکھ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، مگر عوام کو ان سہولیات کا کوئی عملی فائدہ نظر نہیں آتا۔

سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ محکمہ کے ملازمین کو مختلف الاؤنسز کی مد میں 4 کروڑ 60 لاکھ روپے سے زائد ادا کیے جا رہے ہیں، جن میں ہاؤس رینٹ، کنوینس، واشنگ، ڈریس، میڈیکل، اسپیشل کنوینس، ان ایٹریکٹو ایریا اور دیگر مراعات شامل ہیں۔ عوامی حلقوں کا سوال ہے کہ جب کارکردگی دکھائی نہیں دیتی تو یہ مراعات کس بنیاد پر دی جا رہی ہیں؟

شہریوں کا کہنا ہے کہ ڈسپنسریوں میں حاضری رجسٹر مکمل ہونے کے باوجود عملی طور پر ڈاکٹرز دستیاب نہیں ہوتے اور عوام کو نجی طور پر فیس وصول کر کے خدمات دی جاتی ہیں، جو سراسر کرپشن کے زمرے میں آتا ہے۔

عوامی حلقوں نے وزیراعظم جموں و کشمیر سے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ لائیو اسٹاک اینڈ ڈیری ڈیویلپمنٹ کی مکمل تحقیقات کروائی جائیں، تمام ویٹرنری ڈسپنسریوں کی کارکردگی کا آڈٹ کیا جائے، غیر فعال یونٹس بند کیے جائیں، مزید بھرتیوں پر پابندی لگائی جائے اور موجودہ عملے سے عملی کارکردگی لی جائے، بصورت دیگر ایسے ملازمین کو گھر بھیج دیا جائے۔

عوام کا کہنا ہے کہ جس طرح مہاجرین کی مخصوص نشستوں کو بوجھ قرار دیا جاتا ہے، اسی طرح یہ محکمہ بھی عوامی خزانے پر ایک خاموش بوجھ بنتا جا رہا ہے، جس کا فوری نوٹس لینا ناگزیر ہو چکا ہے۔

Share this content: