باغ /کاشگل نیوز
پاکستان کے زیر انتظام مقبوضہ جموں و کشمیر ضلع باغ میں وزیرِ تعمیرات عامہ و مواصلات سردار ضیاء القمر کی جانب سے واضح اور دوٹوک احکامات کے باوجود محکمۂ برقیات باغ کی من مانیاں تھم نہ سکیں۔
محکمۂ برقیات کے ایکسین نے قندیل چوک اور گرد و نواح میں 20 سے زائد بجلی کے کنکشن منقطع کر دیے، حالانکہ وزیرِ برقیات کی جانب سے ہدایت جاری کی گئی تھی کہ جب تک بجلی سے متعلقہ امور حل نہیں ہو جاتے، کسی بھی صارف کا کنکشن منقطع نہ کیا جائے۔
ذرائع کے مطابق متاثرہ عمارات کے مکینوں کو بجلی بند کرنے کا جواز یہ بتایا گیا کہ متعلقہ عمارات اپنے علیحدہ ٹرانسفارمر نصب کریں۔ تاہم ان عمارات میں اکثریت کرائے داروں پر مشتمل ہے، جن میں طلبہ و طالبات بھی شامل ہیں۔
مکینوں کا کہنا ہے کہ بجلی کی بندش سے خاص طور پر وہ طلبہ شدید متاثر ہو رہے ہیں جن کے امتحانات شروع ہو چکے ہیں یا قریب ہیں، جس سے ان کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
دریں اثنا قندیل چوک میں واقع ایک گرلز ہاسٹل میں زیرِ رہائش طالبات نے بتایا کہ بجلی کی عدم فراہمی کے باعث شدید اندھیرا اور پانی کی قلت نے ان کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔
طالبات کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر بجلی بحال نہ کی گئی تو وہ احتجاج پر مجبور ہوں گی۔
متاثرین نے سوال اٹھایا ہے کہ خدانخواستہ کسی حادثے، آتشزدگی یا زلزلے کی صورت میں جانی یا مالی نقصان کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟
ان کا کہنا تھا کہ ایکسین برقیات نے بلڈنگ مالکان کی جانب سے مہلت کی درخواست بھی مسترد کر دی جبکہ صرف عام شہریوں کے کنکشن منقطع کیے گئے اور بااثر افراد کے پلازے تاحال روشن ہیں۔
عوامی حلقوں نے محکمۂ برقیات کے امتیازی اور سخت رویے کے خلاف شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج کی کال دے دی ہے اور اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
Share this content:


