تودہ پارٹی کے سرکردہ رہنما محمد امیدوار نے برطانیہ کے بائیں بازو کے اخبار "مارننگ اسٹار” کو انٹرویو دیا ہے۔یہ انٹرویو رسالے "کمیونزم کے دفاع” میں 18 جنوری 2026 کو شائع ہوا۔انٹرویو میں انہوں نے ایران میں جاری بغاوت کی طبقاتی جڑوں کا تجزیہ کیا اور ایران میں سامراجی مداخلت سے خبردار کیا۔
یاد رہے کہ تودہ پارٹی آف ایران کی بنیاد 1941 میں ایران کے اندر رکھی گئی تھی، اور یہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد ایران کی سب سے بڑی بائیں بازو کی جماعت بن گئی تھی۔ لیکن آج اس کی مرکزی قیادت ایران کے باہر جلاوطنی میں کام کرتی ہے ، خاص طور پر جرمنی (برلن) اور برطانیہ (لندن) سے۔اس کی وجہ ایران میں 1983 میں اسلامی جمہوریہ نے تودہ پارٹی پر پابندی لگا دی، اس کے رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا، اور پارٹی کو مکمل طور پر غیر قانونی قرار دے دیا گیا۔
اس کے بعد پارٹی کی قیادت یورپ منتقل ہو گئی اور آج بھی وہیں سے اپنا سیاسی و نظریاتی کام جاری رکھتی ہے۔تودہ پارٹی 1940۔1950 میں ایران کی سب سے بڑی لیفٹ پارٹی تھی۔ آج تودہ پارٹی ایران کے اندر خفیہ اور محدود سرگرمیاں (سرکاری طور پر غیر قانونی)جبکہ ایران کے باہریورپ میں فعال، خاص طور پر برلن (مرکزی دفتر) لندن۔ آن لائن پلیٹ فارمز پر سیاسی بیانیہ اور بیانات جاری کرتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔
سوال: آپ اُن گہرے سماجی و معاشی عوامل کا کس طرح جائزہ لیتے ہیں جنہوں نے لوگوں کو سڑکوں پر نکلنے پر مجبور کیا، اور آپ ایرانی حکومت کے اس مؤقف سے کیوں اختلاف کرتے ہیں کہ یہ ایک غیر ملکی سازش ہے؟
محمد امیدوار: سب سے پہلے میں مارننگ اسٹار کے اپنے رفقا اور اس کے قارئین کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو ہمارے عوام کی جدوجہد اور ایران میں ترقی پسند قوتوں کے ثابت قدم حامی رہے ہیں۔ ہماری دلی ہمدردیاں اور تعزیت اُن ہزاروں خاندانوں کے ساتھ ہے جنہوں نے اس وحشیانہ اور بے رحم کریک ڈاؤن میں اپنے پیاروں کو کھو دیا۔ ایران اور دنیا بھر کی تمام ترقی پسند قوتوں کی طرح ہم بھی ایران میں ہزاروں زیرِ حراست افراد اور تمام سیاسی قیدیوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
ہماری پارٹی کے 9 جنوری کے بیان کے مطابق، عوامی بغاوت کا آغاز 28 دسمبر کو ہڑتالوں اور پُرامن مظاہروں سے ہوا۔ اس میں قابلِ ذکر طور پر بازار کے تاجر بھی شامل تھے۔ یہ لوگ روایتی طور پر حکومت کی سماجی بنیاد رہے ہیں اور گزشتہ 47 برسوں میں اس کی حمایت کرتے آئے ہیں۔ یہ بغاوت تیزی سے ایران کے تمام بڑے شہروں اور قصبوں میں پھیل گئی اور حکمران آمریت کے لیے ایک سنگین چیلنج بن گئی۔
بازار کے احتجاج کی بنیاد ایران کی کرنسی، یعنی “ریال” یا عرفِ عام میں “تومان”، کے انہدام میں تھی، جہاں ڈالر کے مقابلے میں شرحِ مبادلہ بگڑ کر 149 ہزار تومان فی ڈالر تک پہنچ گئی۔ یہ بات بھی نمایاں کرنا ضروری ہے کہ ایران میں بہت سی بنیادی اشیائے ضرورت کی قیمتیں براہِ راست ڈالر کی شرحِ مبادلہ سے منسلک ہیں۔ مزید برآں، یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ ایران پر امریکی سامراج کی پابندیوں نے عام ایرانی عوام کی زندگیوں پر تباہ کن اثرات مرتب کیے ہیں، جبکہ حکومت نواز طفیلی بورژوازی نے ان سے فائدہ اٹھایا ہے۔
بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال کا مطلب یہ ہے کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھی تقریباً چار کروڑ ایرانی حکومت کی متعین کردہ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی بے روزگاری، خصوصاً نوجوانوں میں، مسلسل جبر اور عوام کے بنیادی انسانی و جمہوری حقوق پر حملے، بے مثال بدعنوانی—جس میں پاسدارانِ انقلاب کی قیادت اور حکومت کے سربراہان، جو بڑے سرمایہ دار طبقے کی نمائندگی کرتے ہیں، ایران کی تمام کلیدی صنعتوں پر قابض ہیں—اور خواتین کے حقوق کی مسلسل پامالی، خاص طور پر تین سال قبل “عورت، زندگی، آزادی” کی تحریک کی دلیرانہ جدوجہد کے بعد، یہ سب عوامی غصے اور ایران میں آمریت کے خاتمے کی جدوجہد کی بنیاد ہیں۔
مختصراً، ‘سپریم لیڈر’ خامنائی کے دعوے کے برعکس، یہ عوامی احتجاجی تحریک ایک طبقاتی جدوجہد ہے، نہ کہ امریکی سامراج یا نسل کش اسرائیلی حکومت کی پیداوار۔ یہ درحقیقت حکمران سرمایہ دارانہ نظام کی تباہ کن نیولبرل معاشی پالیسیوں، وسیع پیمانے پر بدعنوانی، عدمِ تحفظ اور اس جابرانہ نظام کا براہِ راست نتیجہ ہے جو حکومت کے قائدین اور ان کے معاونین نے قوم پر مسلط کر رکھا ہے۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ ہم اس امر سے آگاہ ہیں کہ امریکی سامراج اور خطے میں اس کے اتحادی، بالخصوص نیتن یاہو کی مجرمانہ حکومت، اور ایران میں ان کے ایجنٹوں کی یہ مفاداتی کوشش رہی ہے کہ پُرامن احتجاجی تحریک کو ہائی جیک کر کے تشدد کی طرف دھکیلا جائے—تاکہ حکومت کو اپنے غیر انسانی اور وحشیانہ جبر، ہزاروں مظاہرین کے قتل و زخمی کیے جانے، ہزاروں کی گرفتاری، اور ملک پر بے مثال مکمل مواصلاتی بلیک آؤٹ مسلط کرنے کا جواز مل سکے۔
سوال: ایران میں بادشاہت کے حامیوں کی سماجی بنیاد کے بارے میں آپ کا تجزیہ کیا ہے؟
محمد امیدوار: گزشتہ 18 دنوں کے دوران ہم نے دیکھا ہے کہ بیشتر بڑے مغربی (اور عمومی طور پر دائیں بازو کے) میڈیا ادارے، جیسے بی بی سی اور “ایران انٹرنیشنل” ٹی وی چینل (جسے اسرائیلی حکومت کی مالی معاونت حاصل ہے)، نے ایک منظم مہم کی نگرانی کی جس کا مقصد رضا پہلوی کو احتجاجی تحریک اور ایران میں اپوزیشن کے سربراہ کے طور پر پیش کرنا تھا، گویا وہ واپس آ کر اقتدار سنبھالنے کے لیے تیار ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم نے سوشل میڈیا پر ایک نمایاں مہم بھی دیکھی جو اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کی جانب سے منظم کی گئی، جس میں متعدد سوشل میڈیا چینلز قائم کیے گئے، پہلوی کی تشہیر کی گئی، ایران میں عوامی مظاہروں کی ویڈیوز میں رد و بدل کیا گیا، ان کے حق میں جعلی نعرے شامل کیے گئے، اور مجموعی طور پر یہ جھوٹا بیانیہ تشکیل دیا گیا کہ ایرانی عوام بادشاہت کی واپسی چاہتے ہیں۔ یہ امر قابلِ غور ہے کہ متعدد رپورٹس کے مطابق خود ٹرمپ بھی اس بات پر قائل نہیں کہ ایران کے عوام بادشاہت کی واپسی کے خواہاں ہیں۔
یہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پہلوی کی ایران کے اندر کوئی مادی سماجی بنیاد موجود نہیں۔ ان کے حق میں حمایت کے مظاہر محدود اور چھوٹے سماجی گروہوں تک محدود ہیں، جو زیادہ تر اسلامی جمہوریہ سے پہلے کے ایران کی نوستالجیا کا اظہار کرتے ہیں۔ اسے کسی طور پر بھی ایرانی معاشرے میں بادشاہت کی وسیع حمایت کا ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا اور نہ ہی اسے اس طرح پیش کیا جانا چاہیے۔
سوال: امریکی سرپرستی میں ہونے والی حکومت کی تبدیلی کے ممکنہ نتائج آپ کیا دیکھتے ہیں؟
محمد امیدوار: میں آغاز اس یاد دہانی سے کرنا چاہوں گا کہ امریکی سامراج نے دنیا میں اپنی ابتدائی “رجیم چینج” مداخلتوں میں سے ایک ایران میں 1953ء میں کی، جب سی آئی اے اور ایم آئی سکس کی مشترکہ طور پر منظم کردہ فوجی بغاوت کے ذریعے ڈاکٹر محمد مصدق کی منتخب قوم پرست حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔
بعد ازاں یہی ماڈل امریکی سامراج نے دنیا کے 70 سے زائد ممالک میں استعمال کیا۔ 1953ء کی بغاوت کے نتیجے میں بادشاہت بحال ہوئی، ایرانی عوام کے حقوق کچلے گئے، اور ہماری پارٹی کے متعدد رفقا کو سزائے موت دی گئی۔
بحال شدہ شاہی حکومت نے تقریباً تیس برس تک ایران کے تیل کی لوٹ مار کی اجازت دی اور ایران کو امریکی اثر و رسوخ کے دائرے میں، اور ہمسایہ سوویت یونین کے خلاف، ایک علاقائی مرکز میں تبدیل کر دیا۔ درحقیقت 1979ء کا ایرانی انقلاب—جو جدید تاریخ کی سب سے بڑی اور مقبول عوامی تحریکوں میں سے ایک تھا—نے شاہی آمریت کا خاتمہ ایک واضح سامراج مخالف وژن کے ساتھ کیا، جس کا مقصد ایران کی آزادی اور امریکی تابع داری سے نجات تھا۔
لہٰذا ہم عملی طور پر دیکھ چکے ہیں کہ سامراج کے تحت “رجیم چینج” کا مطلب کیا ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ افغانستان سے عراق، لیبیا، شام اور یمن تک امریکی سامراجی مداخلتیں—اور فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی مجرمانہ حکومت کی نسل کش جنگ، جسے امریکی سامراج، برطانیہ اور یورپی یونین کی مکمل حمایت حاصل ہے، جس میں ساٹھ ہزار سے زائد بے گناہ افراد اور تقریباً بیس ہزار بچے مارے جا چکے ہیں—سامراج اور اس کے علاقائی آلہ کاروں کی حقیقی فطرت کو بے نقاب کر چکی ہیں۔
اس کے علاوہ، گزشتہ جون میں ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی مشترکہ فوجی جارحیت، جس کا مقصد ایران میں “رجیم چینج” تھا، نے ملک کے اندر ایک حب الوطنی کے جذبے کو فروغ دیا اور بیرونی دشمنی کے خلاف صف بندی کو مضبوط کیا۔ 22 جون کو اپنی پارٹی کے بیان میں ہم نے کہا تھا کہ یہ مجرمانہ حملہ ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف فوجی جارحیت کے مترادف ہے، اقوامِ متحدہ کے منشور کے مطابق بین الاقوامی قانون کی واضح اور صریح خلاف ورزی ہے، اور یہ کہ ہماری پارٹی بیرونی مداخلت کے خلاف ملک کے دفاع میں ایران کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔
حالیہ دنوں میں ہم نے ایک جائز اور عوامی احتجاجی تحریک کی دانستہ تخریب کاری اور اسے پٹری سے اتارنے کے مناظر دیکھے ہیں، جو غیر نمائندہ بد نیت عناصر نے، بیرونِ ملک موجود بعض حلقوں کی مدد سے، اور غیر ملکی مداخلت کے مسلسل خطرے کے سائے میں انجام دی۔
ایران اور اس کے عوام کے داخلی اور خودمختار معاملات میں یہ جارحیت اور مذموم مداخلت صرف اس بات کا عندیہ دیتی ہے کہ ایران کے اندر حقیقی عوامی احتجاجی تحریکوں اور جمہوری دھاروں کو کمزور کیا جائے اور پیچھے دھکیل دیا جائے، اور حکومت کو یہ موقع ملے کہ وہ تمام مظاہرین اور اختلاف کرنے والوں کو جھوٹے طور پر “فسادی” اور “غیر ملکی ایجنٹ” قرار دے۔ اس کے نتیجے میں ایران کی ترقی پسند تحریک کو پہنچنے والے نقصان کی شدت کو بڑھا چڑھا کر بھی بیان نہیں کیا جا سکتا۔
سوال: آپ کی پارٹی کم از کم پروگرام کے گرد ترقی پسند اور محبِ وطن قوتوں کے اتحاد کی اپیل کرتی ہے۔ اس وقت ایسے متحدہ محاذ کی تعمیر کے لیے تودہ پارٹی کن ٹھوس اقدامات کو ضروری سمجھتی ہے؟
محمد امیدوار: تودہ پارٹی ایران نے اپنی اپیلوں اور دیگر ترقی پسند اور محبِ وطن قوتوں کے ساتھ براہِ راست روابط کے ذریعے بارہا اس امر پر زور دیا ہے کہ حکمران آمرانہ نظام کے خلاف جدوجہد میں ایک بنیادی پروگرام کے گرد تعمیری مکالمہ اور تعاون ناگزیر ہے۔ ترقی پسند قوتوں کو عوام کے سامنے پیش کرنے کے لیے ایک متحدہ پروگرام تیار کرنا ہوگا اور عوامی تحریک کو موجودہ نازک صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے منظم کرنا ہوگا۔ ایسے پروگرام کے ذریعے یہ امید پیدا ہو سکتی ہے کہ تحریک کو قومی مفادات اور عوامی مطالبات کی خدمت کی سمت درست طور پر رہنمائی دی جا سکے۔ افسوس کہ اب تک اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا اور نہ ہی آمریت کے خلاف ایک مربوط اور مشترکہ مہم کی شکل میں پیش رفت ہو سکی ہے—اسی خلا کے باعث امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو یہ موقع ملا ہے کہ وہ یا تو حکومت کے اندر سے یا باہر سے مسلط کی گئی کسی “محفوظ” متبادل قوت کو تراشنے کی کوشش کریں۔
٭٭٭
Share this content:


