گلگت / کاشگل نیوز
پاکستان کے زیر انتظام گلگت بلتستان کے گائوں چپورسن ویلی ہنزہ کے زلزلہ متاثرین شدید سردی میں کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبورہوگئے۔
چپورسن ویلی، ہنزہ میں حالیہ زلزلے سے متاثرہ سینکڑوں خاندانوں نے شدید سرد موسم میں انتہائی مشکل رات سادہ خیموں میں گزاری، جہاں درجہ حرارت منفی 20 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی کم ہو گیا۔
متاثرہ خاندانوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر موسمِ سرما کے مطابق محفوظ رہائش گاہیں، حرارتی سہولیات اور خصوصی طبی خدمات فراہم کی جائیں تاکہ سخت سردی کے اثرات سے بچا جا سکے۔
انہوں نے چپورسن ویلی روڈ کی فوری بحالی کا بھی مطالبہ کیا ہے تاکہ بزرگوں، خواتین، معذور افراد اور بچوں سمیت دیگر کمزور طبقوں کو بحفاظت علاقے سے منتقل کیا جا سکے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر امدادی کارروائیوں اور سڑک کی بحالی میں مزید تاخیر ہوئی تو انسانی بحران مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔
یاد رہے کہ پیر کی صبح 11 بج کر 21 منٹ پر گلگت بلتستان اور گرد و نواح میں 5.9 شدت کا زلزلہ محسوس کیا گیا، جس کا مرکز کریم آباد سے تقریباً 49 کلومیٹر کے فاصلے پر بتایا گیا ہے۔
ریشت گاؤں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں لینڈ سلائیڈنگ ہوئی جس سے متعدد مویشی خانوں اور چند رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا۔
Share this content:


