پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کشمیریوں کے اپنے حقوق کے لیے پُرامن احتجاج پر استعمار کا ہر طرف سے اُن پر حملہ، پاکستان نے کشمیر کو اس کے تاریخی اور حقیقی مالک کشمیریوں کے خون سے رنگین کر دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اپنا حق مانگنے کے بدلے میں پاکستان نے حق دینے کے بجائے کشمیریوں کو لاشیں، زخمیں اور بندشیں دی ہیں۔گزشتہ مہینے سے جاری احتجاج کے دوران پاکستان اب تک درجنوں کشمیری مظاہرین کو شہید کر چکا ہے، سینکڑوں کو زخمی اور سیکڑوں کو گرفتار کر چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے قائد شوکت ایاز کو جیل میں بند کر دیا گیا ہے، عمر نزیر پر حملہ کیا گیا، اور آج عمر نزیر کے بھائی کو شہید کر دیا گیا۔ سردار امان کو نقصان پہنچانے کے لیے ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کیے گئے۔ کیا یہ پاکستان کا کشمیر کے ساتھ بھائی چارہ ہے؟خون، وحشت، دہشت، شہادتیں، گرفتاریاں، گولیاں اور غداری کے فتوے بھائی چارہ نہیں ہوتے بلکہ دشمنی ہوتی ہے۔
منظور پشتین کہا کہ آج کشمیری مائیں اپنے نوجوان بیٹوں کی گولیوں سے چھلنی لاشوں کے سامنے بیٹھی ہیں، جبکہ استعمار جشن اور خوشیاں منا رہا ہے۔ہم کشمیریوں کے ساتھ بھرپور اظہارِ یکجہتی کرتے ہیں۔ہم عمر نزیر اور دیگر شہداء کے خاندانوں اور پورے کشمیر سے اظہارِ تعزیت کرتے ہیں۔عالمی سطح پر بھی کشمیر ڈائسپورا کا ساتھ دیں گے۔
پی ٹی ایم رہنما نے کہا کہ کشمیریوں کا واحد گناہ یہ ہے کہ انہوں نے غلامی قبول نہیں کی اور اپنی ماں دھرتی کے انتظام کی بات خود کی ہے، اور پنجابی استعمار کے فیصلے ماننے سے انکار کیا ہے۔اپنی ماں دھرتی کشمیر کی خاطر سختیاں، مشکلات اور تکالیف برداشت کرتے ہوئے مزاحمت جاری رکھنا کشمیریوں کی تاریخ ہے۔ طاقت کے استعمال سے کشمیری دبیں گے نہیں بلکہ مزید ابھریں گے۔طاقت کے نشے پر سوار پنجابی استعمار (عرف ریاستِ پاکستان) نے بے شمار بلوچ، پشتون، سندھی اور مہاجر شہید کیے، اور اب کشمیریوں پر یہ سلسلہ شروع کیا ہے۔
آخر میں ان کا کہنا تھا کہ ہم محکوم قومیں ظلم، جبر، وحشت اور فتوؤں کے سامنے نہ جھکیں گے اور نہ پیچھے ہٹیں گے، بلکہ محکوم قوموں کا اٹل فیصلہ ہے کہ کسی بھی صورت غلامی قبول نہیں کریں گے، نہ یہ مظالم بھولیں گے اور نہ معاف کریں گے۔
Share this content:


