وادی نیلم میں برفباری نے پانچ سال کا ریکارڈ توڑ دیا، شاہراہیں بند، لینڈسلائیڈنگ کا خطرہ

پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں شدید برفباری کا سلسلہ جاری ہے، جس نے وادی نیلم میں گزشتہ پانچ سالوں کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔

بالائی نیلم میں چھ فٹ سے زائد برفباری ریکارڈ کی گئی جس کے باعث ہر چیز برف میں چھپ گئی۔ برفباری کے نتیجے میں شاہراہیں بند ہوگئی ہیں اور ممکنہ لینڈسلائیڈنگ کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

ملکہ کوہسار مری اور گلیات میں سنو فال سے سیاح لطف اندوز ہوئے، تاہم مری میں مال روڈ، جھیکا گلی اور نتھیا گلی سیاحوں کے لیے بند کر دی گئی ہیں اور صرف بکنگ والے افراد کو داخلے کی اجازت ہے۔ اس کے علاوہ کوئٹہ، قلات، مستونگ، کان مہتر زئی، مسلم باغ اور چمن میں بھی برفباری ہوئی، جبکہ وادی نیلم، باغ، سدھن گلی، گنگا چوٹی، نیزہ گلی اور تولی پیر میں بھی سفید چادر بچھ گئی۔

برفباری کے باعث متعدد رابطہ شاہراہیں بلاک ہوگئیں۔ گریس ویلی اور شونٹر ویلی کی سڑکیں بند ہوگئی ہیں، نانگا پربت اور بابوسر ٹاپ پر دس فٹ سے زیادہ برف پڑ چکی ہے، جس کے باعث معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوگئے اور لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے۔ باغ میں برفانی تودہ گرنے سے ایک شہری چل بسا اور متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ لیپہ اور نیلم ویلی میں لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 13 گھر مکمل طور پر تباہ اور 28 جزوی متاثر ہوئے۔

برفباری سے بند وادی لیپہ کی شاہراہ بعد میں بحال کر دی گئی، تاہم گلیات میں چار روز گزرنے کے باوجود بیشتر علاقوں میں بجلی معطل ہے اور رابطہ سڑکوں کی مکمل بحالی نہ ہو سکی۔ سڑکوں کی بندش کے باعث خوراک اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہوگئی، اور ناران، کاغان، کالام اور چترال میں سڑکیں بند ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہوگیا۔ مالم جبہ میں برفباری نے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ لیا۔

لاہور سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں بھی بادل برس پڑے اور ٹھنڈ کی شدت میں اضافہ ہوگیا۔ بالائی علاقوں میں برفباری سے درجہ حرارت نقطہ انجماد سے گر گیا۔ لہہ میں منفی 12، زیارت میں منفی 8، استور، گوپس اور پارا چنار میں منفی 7 درج کیا گیا۔ مالم جبہ، قلات اور راولا کوٹ میں منفی 5، کراچی میں کم سے کم درجہ حرارت 11 اور لاہور میں 7 ریکارڈ کیا گیا۔

دوسری جانب خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور بلوچستان کے پہاڑی علاقوں میں ممکنہ لینڈسلائیڈنگ کے پیشگی الرٹ جاری کر دیے گئے ہیں۔ این ڈی ایم اے کے مطابق دیر، سوات، کالام، چترال، کوہستان، شانگلہ، ایبٹ آباد اور مانسہرہ میں لینڈسلائیڈنگ کا شدید خطرہ ہے، جبکہ مری، گلیات، استور، ہنزہ، باغ، مظفرآباد اور گردونواح کے پہاڑی علاقوں میں بھی لینڈسلائیڈنگ کا خدشہ موجود ہے۔ اس کے علاوہ کوئٹہ، زیارت، قلعہ عبداللہ، نوشکی، قلات، مستونگ، پنجگور اور خضدار میں بھی لینڈسلائیڈنگ متوقع ہے۔

این ڈی ایم اے نے عوام سے بار بار ہدایت کی ہے کہ برفباری اور بارش کے دوران غیر ضروری سفر سے مکمل گریز کریں اور احتیاطی اقدامات اختیار کریں۔

Share this content: