تمام سیاسی ، مذہبی و سماجی تنظیمیں چپرسن کے مکینوں کے ساتھ یکجہتی کے لئے متحد ہو جائیں، احسان علی

گلگت/ کاشگل نیوز

عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کے چیئرمین احسان علی ایڈووکیٹ نے گلگت بلتستان کی تمام سیاسی ،مذہبی اور سماجی تنظیموں سے اپیل کی ہے وہ چپرسن کے آفت زدہ اور مصیبت زدہ باشندوں کے ساتھ یکجہتی کے لئے متحد ہو جائیں۔

انہوں نے کہا کہ جی بی حکومت اور وفاقی حکومت متاثرین زلزلہ کے لئے فوری طور سردی سے محفوظ ٹینٹ فراہم کرنے ، روڈہنگامی بنیادوں پر تعمیراور بحالی، علاقے میں فوری جدید سہولیات سے آراستہ موبائل اسپتال کا قیام اور بجلی ،گیس، تیل، لکڑی ،ہنگامی صورت حال کیلئے ایمبولینسز اور بنیادی وضروری خوراک کی فراہمی کی بجائے غریب متاثرین زلزلہ کو پناگزین بنا کر دیگر علاقوں میں شفٹ کر رہی ہے اور چپرسن کو معدنیات کے کمپنیوں کے حوالہ کرنا چاہتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عوامی ایکشن کمیٹی حکومتی وزراء اور افسران کے چپرسن کے دوروں کو محض فوٹو سیشن قرار دیکر مسترد کرتی ہے اور اسے حکومت کی ناکام پالیسی قرار دیتی ہے جبکہ چپرسن کے مقامی لوگ پناہ گزین بن کر در بدر ہونا نہیں چاہتے۔

احسان علی ایڈووکیٹ نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی چپرسن کے عوام کے ساتھ کھڑی ھے اور خطے کے تمام سیاسی و مذہبی و سماجی تنظیموں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ مل کر حکومت پر دباؤ بڑھا دیں اور حکومت پر واضع کریں کہ چپرسن کے باشندوں کو اس حالت تک پہنچانے میں حکمرانوں کا ہاتھ ہے ، پچھلے کئی مہینوں سے چپرسن میں زیر زمین دھماکے ہو رہے تھے مگر حکمران مجرمانہ غفلت کے مرتکب ہوئے اور اس سنگین صورت حال کے جائزے کے لئے سیسمک ماہرین کو نہیں بھیجا اور نہ ہی پچھلے سات دہائیوں میں چپرسن کا روڈ تعمیر کیا نہ بجلی اور نہ یہاں کے لوگوں کو صحت تعلیم کی سہولتیں فراہم کی گئیں اور نہ روزگار کا کوئی ذریعہ فراہم کیا یہی ظالمانہ سلوک اس سے قبل عطاآباد ڈیذاسٹر متاثرین، روندو زلزلہ متاثرین ،غزر سیلاب متاثرین اور دیامر بھاشہ ڈیم متاثرین کے ساتھ کیا۔

انہوں نے کہا کہ جی بی کے عوام پہ مسلط افسرشاہانہ راج یہاں کے عوام کا کوئی بھی بنیادی مسئلہ حل کرنے میں مکمل ناکام ہو چکا ہے ، موجودہ ڈمی جی بی اسمبلی محض کالونیل انتظامیہ کی عوام دشمن پالیسیوں پر عمل درآمد کا محض ایک مہرہ بن چکی ہے ۔ اس لئے عوامی ایکشن کمیٹی موجودہ کالونیل افسرشاہانہ راج کی جگہ ایک آئین ساز بااختیار اسمبلی کے ذریعے عوامی منشاء کے مطابق ایک آئین بنا کر گلگت بلتستان میں حق حکمرانی اورحق ملکیت عوام کےحوالہ کرنا چاہتی ہے ۔

اس لئے مشکل کی اس گھڑی میں پسماندہ ترین چپرسن کے مصیبت زدہ باشندوں کا ساتھ دیں اور جی بی سے تمام مسائل و مشکلات کی جڑ کالونیل افسرشاہانہ راج کے خاتمے اور جی بی میں حق حکمرانی اور حق ملکیت کی عوامی مزاحمتی تحریک کا حصہ بن جائیں۔

Share this content: