قتل کے 6 ماہ بعد بھی جاوید قریشی کا نام شیڈول فور میں شامل، اہلخانہ کوشدید مالی مشکلات کا سامنا

گلگت/ کاشگل نیوز

عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کے وائس چیئرمین جاوید قریشی کو قتل ہوئے 6 ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، تاہم اس کے باوجود ان کا نام تاحال انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت شیڈول فور میں برقرار ہے۔

اس غیر منطقی اور افسوسناک اقدام کے باعث مرحوم کے بینک اکاؤنٹس بدستور منجمد ہیں، جس کی وجہ سے ان کے اہلِ خانہ شدید مالی اور انسانی مشکلات کا شکار ہو چکے ہیں۔

مرحوم کی بیوہ اور ان کا بیمار بیٹا بنیادی علاج تک سے محروم ہیں، کیونکہ صحت کارڈ کی سہولت بھی فراہم نہیں کی جا رہی۔

خاندان کے مطابق اکاؤنٹس کی بندش اور سرکاری بے حسی نے ان کی زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔

قانونی اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایک ایسے شخص کے خلاف پابندیاں برقرار رکھنا جو چھ ماہ قبل قتل ہو چکا ہو، نہ صرف انتظامی غفلت بلکہ کھلی ناانصافی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ صورتحال متاثرہ خاندان کے ساتھ ظلم کے مترادف ہے، جس پر فوری اصلاح اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ناگزیر ہے۔

Share this content: