طاقت کا منبع ۔۔۔ فرحان طارق

سرسوں کے کھیتوں کے عقب سے جب پہلی سنہری کرن زمین پر اتری تو یوں لگا جیسے کسی نے نیند میں ڈوبے گاؤں کے ماتھے پر روشنی کا بوسہ رکھ دیا ہو۔ تاریکی کی ہلکی چادر آہستہ آہستہ سرکتی گئی اور فضا میں پرندوں کی آوازیں تیرنے لگیں۔ مگر آج اس گاؤں کی کہانی صبح کی چہل پہل کی نہیں بلکہ اس طاقت، غرور اور زوال کی ہے۔

جو کبھی اس گاؤں کے نمبردار کے نام سے پہچانی جاتی تھی۔

گاؤں کا نمبردار ایک زمانے میں طاقت اور رعب کی علامت تھا۔ اس کے چوڑے کندھے، بھاری آواز اور تیز نگاہیں لوگوں کو خاموش کر دیتی تھیں اس کا اصل شوق پہلوانی تھا۔ کبھی وہ اکھاڑے کا بادشاہ سمجھا جاتا تھا۔ جب وہ مٹی میں اترتا تو مخالف کا حوصلہ پہلے ہی بیٹھ جاتا۔ لوگ کہتے تھے کہ وہ صرف جسمانی نہیں بلکہ سیاسی پہلوان بھی ہے۔

اس کے فیصلے حرفِ آخر ہوتے، اس کے اشارے پر جھگڑے ختم ہو جاتے اور اس کی ناراضی سے لوگ کانپتے تھے۔

مگر وقت وہ پہلوان ہے جسے کوئی زیر نہیں کر سکا۔

آہستہ آہستہ نمبردار کے گھٹنوں میں درد نے جگہ بنا لی، سانس بھاری ہونے لگا اور ہاتھوں کی گرفت ڈھیلی پڑنے لگی۔ اکھاڑا اب اسے اجنبی لگتا تھا۔ اسی کے ساتھ اس نے محسوس کیا کہ گاؤں کے معاملات پر اس کی گرفت بھی کمزور ہو رہی ہے۔

لوگ اب اس کے پاس کم آنے لگے تھے، اور پڑوسی گاؤں والے تو جیسے اس کے نام سے بے خوف ہونے لگے تھے۔

یہ احساس اس کے لیے کسی شکست سے کم نہ تھا۔تب اس نے ایک نیا راستہ اختیار کیا۔

اس نے نوجوان لڑکوں کو اپنے گرد جمع کرنا شروع کیا۔ وہ طاقتور، بے باک اور کچھ حد تک بے لگام تھے۔ نمبردار نے انہیں اپنے شاگرد، اپنے محافظ اور اپنے ہتھیار بنا لیا۔

گاؤں میں وہ پنٹر کہلانے لگے۔

نمبردار نے انہیں صرف پہلوانی نہیں سکھائی، بلکہ داؤ پیچ، سیاست، خوف اور طاقت کا کھیل بھی سکھایا۔

اب معاملات بدل گئے تھے۔

جہاں کبھی وہ خود جاتا تھا، وہاں اب پنٹر جاتے۔

کسی کی زمین پر قبضہ کرنا ہو یا قبضہ چھڑانا، کسی کو بسانا ہو یا اجاڑنا، کسی کو ڈرانا ہو یا مناناہر جگہ نمبردار کے پنٹر موجود ہوتے۔

وقت گزرتا گیا۔

نمبردار کی طاقت کم ہوئی، مگر اس کا اثر بڑھتا دکھائی دینے لگا۔ آمدن بھی بڑھنے لگی، اور اس کے دروازے پر رش بھی۔مگر طاقت کا بیج جب خود غرضی کی زمین میں گرتا ہے تو اس سے وفاداری نہیں، بغاوت اگتی ہے۔

پہلے پہل شکایات آنا شروع ہوئیں۔

کوئی کہتا فلاں پنٹر نے ظلم کیا، کوئی کہتا وہ حد سے بڑھ گیا۔ نمبردار نے کچھ کو “اگڈ” اور کچھ کو “بیڈ” قرار دے دیا۔

مگر زیادہ وقت نہیں گزرا کہ کل کے اچھے بھی بروں کی صف میں کھڑے نظر آنے لگے۔

پنٹر اب خود کو طاقت سمجھنے لگے تھے۔

انہیں محسوس ہونے لگا کہ نمبردار بوڑھا ہو چکا ہے، اور اصل اختیار ان کے ہاتھ میں ہے۔

دوسری طرف گاؤں بھی بدل رہا تھا۔

لوگ اب نمبردار پر پہلے جیسا انحصار نہیں کرتے تھے۔ نئی سوچ، نئے راستے اور نئے سہارے پیدا ہو رہے تھے۔

ایک دن وہ لمحہ بھی آیا جب پنٹر کھل کر نمبردار کے سامنے آ گئے۔

اب دونوں طرف خاموش جنگ تھی۔

ایک صف میں وہ شخص تھا جس نے انہیں بنایا تھا، اور دوسری صف میں وہ تھے جو خود کو اس کا وارث سمجھ بیٹھے تھے۔

الزامات شروع ہوئے۔
راز کھلنے لگے۔
دوستی دشمنی میں بدل گئی۔

نمبردار کا لہجہ، جو کبھی شفقت بھرا تھا، اب زہر آلود ہو چکا تھا۔

اور پنٹر، جو کبھی اس کے قدموں میں بیٹھتے تھے، اب اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے تھے۔

وہ شام عجیب تھی جب نمبردار اپنے صحن میں تنہا بیٹھا تھا۔
دھوپ دیوار سے سرک رہی تھی۔
اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ پہلوانی صرف اکھاڑے میں نہیں ہاری جاتی، زندگی میں بھی ہار ہوتی ہے۔

اس نے سر اٹھا کر دور دیکھا۔
وہی پنٹر، جنہیں اس نے اپنے ہاتھوں سے تراشا تھا، اب اس کے گریبان تک آ چکے تھے۔

وقت خاموشی سے مسکرایا۔
اور ہوا میں ایک سوال تیرنے لگا
طاقت کا اصل وارث کون ہوتا ہے؟
وہ جو اسے بناتا ہے، یا وہ جو اسے چھین لیتا ہے؟

کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی تھی…

سورج ڈھلنے لگا تھا۔ آسمان پر سنہری روشنی کے ساتھ سرخی پھیل رہی تھی۔ گاؤں کی فضا میں ایک عجیب سی بے چینی تھی، جیسے کوئی بڑا طوفان آنے والا ہو۔ لوگ گھروں کے دروازوں اور کھڑکیوں سے جھانک رہے تھے۔ سب کو معلوم تھا کہ آج فیصلہ ہونا ہے۔

طاقت کا، غرور کا اور اس کہانی کا جو برسوں سے چل رہی تھی۔

نمبردار نے اس دن پہلی بار اپنے پرانے کپڑے پہنے۔ وہی سادہ کُرتا، وہی پگڑی جس میں کبھی اس کا رعب بولتا تھا۔ آئینے میں خود کو دیکھا تو اسے اپنا جوان زمانہ یاد آ گیا۔ وہ لمحے جب اس کے نام سے فیصلے ہوتے تھے، جب لوگ اس کے دروازے کو عدالت سمجھتے تھے۔

صحن میں اس کے چند پرانے ساتھی بیٹھے تھے، مگر وہ بھی خاموش تھے۔
دور سے مٹی اڑتی نظر آئی۔
پنٹر آ رہے تھے۔

اب وہ شاگرد نہیں لگتے تھے، بلکہ ایک الگ قوت، ایک الگ لشکر تھے۔ ان کے چہروں پر اعتماد بھی تھا اور غرور بھی۔ وہ نمبردار کے دروازے پر آ کر رک گئے۔

چند لمحے خاموشی رہی۔ فضا میں صرف ہوا کی آواز تھی۔
آخر ایک پنٹر آگے بڑھا۔
“نمبردار، اب وقت بدل گیا ہے۔ گاؤں کو نئے فیصلے چاہیے۔

یہ وہی لڑکا تھا جسے نمبردار نے سب سے پہلے اپنے پاس رکھا تھا، جسے اس نے لڑنا، بولنا اور ڈر کو مارنا سکھایا تھا۔

نمبردار نے اسے غور سے دیکھا۔
“وقت بدلتا ہے، مگر اصول نہیں بدلتے۔ تم نے طاقت سیکھی، مگر وفاداری نہیں۔”

پنٹر ہنس دیا۔
وفاداری طاقت کے ساتھ ہوتی ہے، کمزوری کے ساتھ نہیں۔
یہ جملہ تیر کی طرح نمبردار کے دل میں لگا۔
مگر اس نے خود کو سنبھالا۔

طاقت چھین کر نہیں ملتی، بنائی جاتی ہے۔ اور جسے بنانے والا بھول جاؤ، وہ طاقت زیادہ دیر نہیں رہتی۔

چند لمحے پھر خاموشی رہی۔
پنٹروں میں سرگوشیاں شروع ہو گئیں۔ وہ شاید کسی ٹکراؤ کے لیے آئے تھے۔

مگر نمبردار کی باتوں نے ان کے قدم روک دیے تھے۔
اسی لمحے گاؤں کے لوگ بھی آہستہ آہستہ جمع ہونے لگے۔

بزرگ، نوجوان، عورتیں سب۔
ایک بوڑھا آگے بڑھا۔
ہم نے تم دونوں کو دیکھا ہے۔ پہلے نمبردار کے فیصلے تھے، پھر تمہارے۔ مگر ہمیں سکون کسی دور میں نہیں ملا۔ اب ہمیں ڈر نہیں چاہیے، انصاف چاہیے۔
یہ الفاظ گویا فیصلہ تھے
لوگوں کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔
اب گاؤں اپنا فیصلہ خود کرے گا!
ہم کسی کے غلام نہیں!
پنٹر پہلی بار گھبرا گئے۔
انہیں احساس ہوا کہ اصل طاقت نہ نمبردار تھا، نہ وہ خوداصل طاقت لوگ تھے۔
نمبردار نے گہری سانس لی۔
اس کے چہرے پر برسوں بعد سکون آیا۔
وہ آہستہ سے بولا،
میں ہار گیا ہوں، مگر تم بھی جیتے نہیں۔ طاقت کا کھیل ختم ہو چکا ہے۔ اب اگر کچھ بنانا ہے تو اس گاؤں کو بناؤ، ورنہ تم بھی ایک دن اسی جگہ کھڑے ہو گے جہاں آج میں ہوں۔
یہ کہہ کر وہ اپنی چارپائی پر بیٹھ گیا، جیسے برسوں کا بوجھ اتار دیا ہو۔
پنٹر ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔
کچھ کے سر جھک گئے۔
کچھ خاموشی سے واپس مڑ گئے۔
سورج ڈوب چکا تھا۔
اندھیرا پھیل رہا تھا، مگر گاؤں میں پہلی بار خوف کم اور امید زیادہ تھی۔
کہتے ہیں اس کے بعد گاؤں میں کوئی نمبردار نہیں رہا۔
فیصلے چوپال میں ہونے لگے۔
اور لوگ اکثر یہ بات دہراتے:
طاقت وہ نہیں جو دوسروں کو جھکا دے
طاقت وہ ہے جو سب کو کھڑا کر دے۔
اور نمبردار؟
وہ اکثر شام کو بیٹھا بچوں کو پہلوانی کے داؤ سکھاتا تھا
مگر اب وہ ہر داؤ کے ساتھ ایک بات ضرور کہتا:
“سب سے بڑا داؤ، اپنے نفس پر لگانا سیکھو۔”

٭٭٭

Share this content: