ورلڈ وائلڈ لائف ڈے: پاکستانی کشمیر میں تیندوے کا بقا شدید خطرات سے دوچار

کاشگل نیوز خصوصی رپورٹ

دنیا بھر میں ہر سال تین مارچ کو World Wildlife Day منایا جاتا ہے، جس کا مقصد جنگلی حیات کے تحفظ اور قدرتی ماحول کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ تاہم پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جنگلی حیات کو درپیش خطرات مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں، جہاں جنگلات میں آگ، بڑھتی انسانی آبادیاں اور غیر قانونی شکار اہم چیلنج بن چکے ہیں۔

ماہرین کے مطابق گزشتہ سال اور رواں سال کے دوران خطے میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والی جنگلی حیات میں تیندوے شامل ہیں۔ انسانی سرگرمیوں کے باعث ان کے قدرتی مسکن سکڑ رہے ہیں جس کے نتیجے میں یہ جانور انسانی آبادیوں کی طرف آنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

زخمی تیندووں کے بڑھتے واقعات

گزشتہ ایک ماہ کے دوران پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے مختلف علاقوں سے زخمی حالت میں ملنے والے تیندووں کی تعداد چار تک پہنچ چکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبادی میں اضافہ، جنگلات کی کٹائی، قدرتی رہائش گاہوں کی تباہی اور غیر قانونی شکار ان نایاب جانوروں کی بقا کے لیے بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔

انسانی ہمدردی کی ایک مثال

ان پریشان کن حالات کے درمیان امید کی ایک کرن بھی سامنے آئی ہے۔ ضلع حویلی سے تعلق رکھنے والے مقامی مزدور شفیق کہانی نے ایک زخمی تیندوے کو دیکھ کر اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر اسے بچایا اور متعلقہ حکام تک پہنچایا۔

شفیق کہانی کا کہنا تھا:
“ہم خود جانور ہیں جو ان کو مارتے ہیں، یہ جنگلی حیات بے زبان ہیں۔”

ان کا یہ اقدام اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ جنگلی حیات کا تحفظ صرف سرکاری اداروں کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ ایک عام محنت کش کی جانب سے دکھائی گئی یہ ہمت اور انسانیت ثابت کرتی ہے کہ شعور اور ہمدردی کا تعلق سماجی یا معاشی حیثیت سے نہیں ہوتا۔

محکمہ وائلڈ لائف کے اعداد و شمار کا فقدان

ٹیم کاشگل نیوز کی جانب سے جب محکمہ جنگلی حیات سے ایک سال کے دوران قدرتی یا شکار کے باعث ہلاک ہونے والے تیندووں کے اعداد و شمار سے متعلق پوچھا گیا تو حکام نے بتایا کہ ان کے پاس اس حوالے سے مکمل ریکارڈ موجود نہیں۔

علاج کی سہولیات کی کمی

دوسری جانب زخمی جنگلی جانوروں کو ریسکیو کرنے کے بعد انہیں علاج کے لیے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ خطے میں جانوروں کے علاج کے لیے مناسب ہسپتال نہ ہونے کے باعث اکثر زخمی جانوروں کو Islamabad منتقل کرنا پڑتا ہے۔ تاہم بعض اوقات تاخیر کے باعث جانور جانبر نہیں ہو پاتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آزاد کشمیر میں جنگلی حیات کے لیے جدید ریسکیو اور ویٹرنری مراکز قائم کیے جائیں تو قیمتی انواع کو معدوم ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔

تحفظ کی ضرورت

ماہرین کے مطابق جنگلات کے تحفظ، غیر قانونی شکار کی روک تھام، عوامی شعور اور مقامی کمیونٹی کی شمولیت کے بغیر جنگلی حیات کا تحفظ ممکن نہیں۔

ورلڈ وائلڈ لائف ڈے کے موقع پر ماہرین نے حکومت اور عوام دونوں سے اپیل کی ہے کہ وہ قدرتی ورثے کے تحفظ کو اپنی ترجیح بنائیں تاکہ آنے والی نسلیں بھی ان نایاب جانوروں کو دیکھ سکیں۔

***

Share this content: