ملکی سلامتی اور بنیادی ضروریات خوراک ،ادویات اور دفاع میں ایران کی پوزیشن !

تحقیق و تحریر : خواجہ کبیر احمد

مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایران ایک ایسا ملک ہے جس نے گزشتہ چار دہائیوں میں مسلسل پابندیوں، معاشی دباؤ اور سفارتی تنہائی کا سامنا کیا۔ ان حالات میں تہران نے ایک بیانیہ تشکیل دیا “خودکفالت” کا بیانیہ۔ جس کا مقصد بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود قومی سلامتی اور عوامی فلاح کو یقینی بنانا تھا اب دیکھنا یہ ہے کہ ایران نے اپنی خود داری اور خود کفالت میں کس حد تک کامیابی حاصل کی اور خوراک، ادویات اور دفاعی صنعت میں یہ خودکفالت حقیقتاً کس حد تک موجود ہے ؟

ایران کی غذائی صورتحال کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ ایک نیم خشک ملک ہے جہاں پانی کی شدید قلت، زیرِ زمین پانی کی کمی اور موسمیاتی تبدیلیاں زرعی پیداوار کو متاثر کرتی ہیں۔ سرکاری اور نیم سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایران اپنی غذائی ضروریات کا تقریباً 60 فیصد خود پیدا کرتا ہے، جبکہ بعض سالوں میں یہ شرح 70 سے 80 فیصد تک بھی پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا۔ تاہم بین الاقوامی تحقیقی جائزے اس شرح کو مختلف ادوار میں 55 سے 75 فیصد کے درمیان قرار دیتے ہیں۔

عملی تصویر یہ ہے کہ گندم میں ایران نے بعض سالوں میں خودکفالت حاصل کی، مگر خشک سالی کے برسوں میں اسے لاکھوں ٹن گندم درآمد کرنا پڑی۔ خوردنی تیل، سویا بین، مکئی اور مویشیوں کے چارے میں ایران نمایاں حد تک بیرونی منڈیوں پر انحصار کرتا ہے۔ چینی اور چاول میں بھی مکمل خودکفالت موجود نہیں۔ یوں مجموعی طور پر دیکھا جائے تو خوراک کے شعبے میں ایران تقریباً 35 تا 40 فیصد تک بیرونی سپلائی چین سے جڑا ہوا ہے۔

اس انحصار کی ایک اہم وجہ صرف پیداوار کی کمی نہیں بلکہ زرعی ڈھانچے کی ساخت بھی ہے۔ پانی کے غیر مؤثر استعمال، جدید بیجوں اور ٹیکنالوجی کی کمی، اور بعض اوقات سبسڈی پالیسیوں نے پیداوار کو غیر مستحکم رکھا۔ اس کے باوجود ایران نے پولٹری، ڈیری اور کچھ باغبانی کی مصنوعات میں خاطر خواہ ترقی کی ہے اور خطے کے بعض ممالک کو برآمدات بھی کی ہیں۔

ادویات کے شعبے میں تصویر نسبتاً مختلف ہے۔ ایران نے 1980 کی دہائی کی جنگ اور اس کے بعد کی پابندیوں کے تجربے سے سیکھتے ہوئے مقامی دوا سازی کی صنعت کو ترجیح دی۔ آج ملک میں درجنوں بڑی اور درمیانی سطح کی فارماسیوٹیکل کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 90 سے 95 فیصد ادویات ایران کے اندر تیار ہوتی ہیں۔ بعض بیانات میں یہ شرح 97 یا 98 فیصد تک بھی بتائی جاتی ہے۔

لیکن یہاں ایک اہم نکتہ سمجھنا ضروری ہے وہ یہ کہ مقامی طور پر تیار ہونے والی ادویات زیادہ تر عام استعمال کی دوائیں ہیں۔ مہنگی، جدید اور حیاتیاتی ادویات مثلاً بعض کینسر تھراپیز، نایاب بیماریوں کے علاج یا جدید ویکسین ٹیکنالوجی میں ایران کو اب بھی بیرونی سپلائی کی ضرورت پڑتی ہے۔ مزید یہ کہ بہت سی دواؤں کے فعال اجزاء درآمد کیے جاتے ہیں۔ اس طرح اگرچہ حتمی پیکنگ اور تیاری ایران میں ہوتی ہے، مگر خام مال کا ایک حصہ بیرونی ہوتا ہے۔ مالیاتی لحاظ سے دیکھا جائے تو درآمد شدہ ادویات کم مقدار کے باوجود مارکیٹ ویلیو میں کہیں زیادہ حصہ رکھتی ہیں۔

دفاعی صنعت کی بات کی جائے تو ایران نے سب سے زیادہ زور اسی شعبے پر دیا ہے۔ انقلاب کے بعد اور خاص طور پر ایران عراق جنگ کے دوران یہ احساس شدت سے ابھرا کہ بیرونی اسلحہ پر انحصار قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ اسی پس منظر میں میزائل ٹیکنالوجی، ڈرون پروگرام، چھوٹے ہتھیار، بکتر بند گاڑیاں اور بحری سازوسامان کی مقامی تیاری کو فروغ دیا گیا۔ ایرانی حکام اکثر دعویٰ کرتے ہیں کہ دفاعی ضروریات کا 85 سے 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ حصہ ملک کے اندر تیار کیا جاتا ہے۔

زمینی حقیقت یہ ہے کہ ایران واقعی بیلسٹک میزائل، کروز میزائل، ڈرونز اور متعدد زمینی ہتھیار خود تیار کرتا ہے۔ اس کے ڈرون پروگرام نے عالمی توجہ حاصل کی ہے۔ تاہم جدید لڑاکا طیاروں کے انجن، جدید ریڈار سسٹمز، ہائی اینڈ مائیکرو الیکٹرانکس اور بعض حساس پرزہ جات میں ایران کو یا تو پرانی ٹیکنالوجی پر انحصار کرنا پڑتا ہے یا بالواسطہ بیرونی ذرائع سے سپلائی حاصل کرنی پڑتی ہے۔ حالیہ برسوں میں دفاعی تعاون نے جسکی تفصیلات اس وقت کے حالات کو دیکھتے ہوۓ دینا مناسب نہیں کچھ خلا پُر کیے ہیں، مگر مکمل خودکفالت کا دعویٰ اب بھی جزوی حقیقت ہے، مکمل نہیں۔

یوں اگر تینوں شعبوں کو مجموعی تناظر میں دیکھا جائے تو ایک واضح نقشہ سامنے آتا ہے۔ خوراک میں ایران نسبتأ خودکفالت رکھتا ہے مگر بنیادی اجناس اور فیڈ میں درآمد پر بھی انحصار موجود ہے۔ ادویات میں حجم کے اعتبار سے خودکفالت بلند ہے، مگر خام مال اور مہنگی خصوصی دواؤں میں بیرونی وابستگی برقرار ہے۔ دفاعی صنعت میں مقامی تیاری نمایاں ہے، خاص طور پر میزائل اور ڈرونز میں، لیکن جدید ترین ٹیکنالوجی میں مکمل آزادی حاصل نہیں ہو سکی۔

یہ سارا ماڈل دراصل “پابندیوں کی معیشت” کا نتیجہ ہے جہاں ریاست اپنی بقا اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے داخلی پیداوار کو ترجیح دیتی ہے، مگر عالمی سپلائی چین سے مکمل علیحدگی ممکن نہیں رہتی۔ آج کی باہم جڑی ہوئی عالمی معیشت میں کوئی بھی ملک خواہ وہ ایران ہو یا کوئی بڑی طاقت مکمل خودکفیل نہیں ہو سکتا۔ فرق صرف انحصار کی شدت اور نوعیت کا ہے۔

یہ حقیقت عیاں ہے کہ ایران چار دہائیوں سے مختلف نوعیت کی بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے، خاص طور پر امریکہ اور یورپی بلاک کی مالیاتی اور توانائی سے متعلق پابندیاں۔ اس کے باوجود ایران کئی شعبوں میں ایک بنیادی صنعتی ڈھانچہ برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔ جسکی کئی وجوہات ہیں ۔

سب سے پہلی وجہ آبادی اور معیشت کا تنوع ہے۔ ایران کی آبادی تقریباً نو کروڑ سے زیادہ ہے، جو اسے صرف تیل پر منحصر چھوٹی ریاستوں سے مختلف بناتی ہے۔ یہ ایک متنوع معیشت رکھتا ہے جس میں زراعت، پیٹروکیمیکل، اسٹیل، سیمنٹ، گاڑی سازی اور دفاعی صنعت شامل ہیں۔ مثال کے طور پر ایران خطے میں سیمنٹ اور اسٹیل کی پیداوار میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ معیشت صرف تیل کی آمدنی پر قائم نہیں۔

دوسری اہم وجہ اندرونی صنعتی صلاحیت ہے۔ پابندیوں نے ایران کو مجبور کیا کہ وہ بہت سی اشیاء مقامی طور پر تیار کرے۔ یہی وجہ ہے کہ ادویات، بنیادی دفاعی سازوسامان اور کچھ زرعی مصنوعات میں خودکفالت کا درجہ نسبتاً بہتر ہے۔جب موازنہ صرف “ریاستی بقا” یا “صنعتی خودمختاری” کے تناظر میں کیا جائے تو ایران کئی ایسے ہمسایہ ممالک سے زیادہ مضبوط نظر آتا ہے جو مکمل طور پر درآمدی ماڈل پر قائم ہیں۔ مثال کے طور پر کچھ خلیجی ریاستیں خوراک، ادویات اور دفاع میں تقریباً مکمل درآمد پر انحصار کرتی ہیں، جبکہ ایران کم از کم بنیادی سطح پر اپنی سپلائی برقرار رکھ سکتا ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایران کے پاس توانائی کے وسیع ذخائر ہیں۔ اوپیک کا رکن ہونے کے ناطے اس کے پاس دنیا کے بڑے گیس اور تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ یہی قدرتی وسائل اسے مکمل معاشی انہدام سے بچاتے ہیں، اگرچہ پابندیاں ان وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھانے میں رکاوٹ ہیں۔اسکے باوجود ایران نے بعض شعبوں میں واقعی “مزاحمتی معیشت” کا نمونہ پیش کرتا ہے۔

٭٭٭

Share this content: