حیدرآباد: سندھ ہائی کورٹ کا علی وزیر کی طویل قید پر اظہارِ تشویش، رپورٹس طلب

حیدرآباد میں سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بنچ نے سابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی طویل قید پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے متعلقہ حکام سے تفصیلی رپورٹس طلب کر لی ہیں۔

علی وزیر اس وقت سینٹرل جیل-I سکھر میں قید ہیں۔

جسٹس ریاضت علی سحر اور جسٹس ارباب علی ہکرو پر مشتمل آئینی بنچ نے 3 مارچ 2026 کو Article 199 of the Constitution of Pakistan کے تحت دائر درخواست کی سماعت کی، جس میں علی وزیر کی نظر بندی کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا گیا ہے۔

عدالت نے اپنے تحریری حکم میں قرار دیا کہ قانون کسی ملزم کو اس صورت میں غیر معینہ مدت تک حراست میں رکھنے کی اجازت نہیں دیتا جب اس کے خلاف کوئی مقدمہ متعلقہ عدالت میں زیر التوا نہ ہو۔ بنچ نے اس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔

درخواست گزار کی جانب سے ایڈووکیٹ امداد حیدر سولنگی پیش ہوئے جبکہ وفاق کی نمائندگی اسسٹنٹ اٹارنی جنرل شمس الدین راجپر نے National Cyber Crime Investigation Agency (این سی سی آئی اے) حیدرآباد کے انسپکٹر سعید احمد شیخ کے ہمراہ کی۔ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل سندھ رفیق احمد ڈاہری بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق علی وزیر کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 123-اے، 124-اے اور 124-بی کے تحت پولیس اسٹیشن ائیرپورٹ نوابشاہ میں درج ایف آئی آر نمبر 35/2025 کے تحت گرفتار کیا گیا تھا، جسے Anti-Terrorism Act 1997 کی دفعات 6 اور 7 کے ساتھ پڑھا گیا تھا اور یہ مقدمہ انسداد دہشت گردی عدالت شہید بینظیر آباد میں زیر سماعت تھا۔

تاہم 29 مئی 2025 کو انسداد دہشت گردی عدالت نے دائرہ اختیار نہ ہونے کی بنیاد پر کیس تفتیشی افسر کو واپس بھیج دیا اور قرار دیا کہ عدالت میں ہونے والی سابقہ کارروائی غیر عدالتی تھی۔ اس کے باوجود علی وزیر عدالتی حراست میں رہے اور ان کی رہائی سے متعلق کوئی واضح حکم جاری نہیں ہوا۔

آئینی بنچ نے نشاندہی کی کہ کیس واپس کیے جانے کے باوجود Code of Criminal Procedure Pakistan کی دفعہ 63 کے تحت ملزم کی رہائی کے لیے مناسب حکم جاری نہیں کیا گیا۔ عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ این سی سی آئی اے کی انکوائری کے دوران علی وزیر کو کس قانونی بنیاد پر جیل میں رکھا گیا۔

سماعت کے دوران انکوائری افسر انسپکٹر سعید احمد شیخ نے عدالت کو بتایا کہ تحقیقات کے بعد 23 جون 2025 کی حتمی رپورٹ 9 فروری 2026 کو دستخط کے بعد منظوری کے لیے کراچی میں متعلقہ حکام کو بھیج دی گئی تھی۔

عدالت نے انسداد دہشت گردی عدالت شہید بینظیر آباد، این سی سی آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر زون کراچی اور نیشنل سائبر کرائم ونگ (جنوبی) کراچی سے علی وزیر کی حراست کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی رپورٹس طلب کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ تمام رپورٹس اگلی سماعت یعنی 10 مارچ 2026 سے قبل عدالت میں جمع کرائی جائیں۔

Share this content: