ایران میں لڑکیوں کے اسکول پر فضائی حملہ،تحقیقات میں امریکی فورسز پر شبہ

ایران میں لڑکیوں کے ایک اسکول پر ہونے والے مہلک فضائی حملے کی ذمہ داری کے تعین کے لیے امریکہ میں جاری تحقیقات کے دوران یہ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ اس حملے میں امریکی فورسز ملوث ہو سکتی ہیں، تاہم امریکی حکام کے مطابق ابھی تک کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکہ کے دو اعلیٰ عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تحقیقات تاحال جاری ہیں اور فی الحال کسی قطعی نتیجے تک نہیں پہنچا جا سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی شواہد اور قرائن اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اس کارروائی کی ذمہ داری ممکنہ طور پر امریکی فورسز پر عائد ہو سکتی ہے۔

امریکی وزیر دفاع Pete Hegseth نے بدھ کے روز تصدیق کی تھی کہ امریکی فوج اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ اس حملے میں تقریباً 165 کم عمر ایرانی طالبات کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ہے، جس کے بعد عالمی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ بھی ممکن ہے کہ تحقیقات کے دوران ایسے شواہد سامنے آئیں جو امریکی فوج کو اس حملے سے بری قرار دیں یا کسی اور فریق کی ذمہ داری ثابت کریں۔ ان کے مطابق اس واقعے سے متعلق ابھی کئی اہم سوالات کے جواب سامنے آنا باقی ہیں اور یہ بھی واضح نہیں کہ تحقیقات کب تک مکمل ہوں گی۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان Karoline Leavitt نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ محکمہ دفاع واقعے کی تحقیقات کر رہا ہے، تاہم ان کے بقول ایرانی حکومت شہریوں اور بچوں کو نشانہ بنا رہی ہے، امریکہ نہیں۔

واضح رہے کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت اسکولوں، اسپتالوں اور دیگر شہری تنصیبات کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا جنگی جرم تصور کیا جاتا ہے، اور ایسے واقعات کی عالمی سطح پر تحقیقات اور جوابدہی کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔

Share this content: