انسانیت کے مستقبل کا سوال ! میزائل، ایٹمی ہتھیار اور بھوکی دنیا

تحقیق و تحریر: خواجہ کبیر احمد

گزشتہ چند برسوں میں عالمی سیاست اور سلامتی کی صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں دنیا بیک وقت دو بالکل مختلف حقیقتوں کا سامنا کر رہی ہے۔ ایک طرف انسانیت کی تاریخ کے سب سے مہلک ہتھیار تیار ہو چکے ہیں، جبکہ دوسری طرف اسی زمین پر کروڑوں انسان خوراک اور بنیادی ضروریات کے لیے ترس رہے ہیں۔ یہ تضاد صرف اخلاقی نہیں بلکہ تہذیبی اور انسانی بقا کا سوال بھی بن چکا ہے۔

آج دنیا میں میزائل، ڈرون اور ایٹمی ہتھیاروں کی ایسی صلاحیت موجود ہے جو چند منٹوں میں پورے شہروں اور کروڑوں انسانوں کو مٹا سکتی ہے۔ دوسری طرف عالمی سطح پر پیدا ہونے والی خوراک اتنی ہے کہ پوری انسانیت کو آرام سے خوراک فراہم کی جا سکتی ہے، مگر تقسیم کے نظام کی ناکامی نے اسے ایک المیہ بنا دیا ہے۔

عسکری ٹیکنالوجی کی دوڑ میں سب سے زیادہ خطرناک ہتھیار بیلسٹک میزائل سمجھے جاتے ہیں۔ یہ میزائل ہزاروں کلومیٹر دور تک جا سکتے ہیں اور ایٹمی وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان ہتھیاروں اور ان کی صلاحیتوں کے بارے میں معلومات عالمی دفاعی تحقیقی اداروں مثلاً Center for Strategic and International Studies اور International Institute for Strategic Studies کی رپورٹس میں بھی بیان کی گئی ہیں۔

امریکہ کا Minuteman III تقریباً 13 ہزار کلومیٹر تک مار کر سکتا ہے جبکہ روس کا RS-28 Sarmat تقریباً 18 ہزار کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ چین کا DF-41 بھی تقریباً 12 ہزار کلومیٹر رینج رکھتا ہے جبکہ شمالی کوریا کا Hwasong-17 امریکہ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

جنوبی ایشیا میں پاکستان کا Shaheen-III تقریباً 2750 کلومیٹر تک مار کر سکتا ہے اور بھارت کا Agni-V پانچ سے آٹھ ہزار کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

ان میزائلوں کی سب سے خطرناک خصوصیت یہ ہے کہ بعض میزائل ایک ساتھ کئی ایٹمی وارہیڈ لے جا سکتے ہیں، جسے Multiple Independently Targetable Reentry Vehicle (MIRV) ٹیکنالوجی کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک میزائل بیک وقت کئی شہروں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

بیلسٹک میزائل کے ساتھ ساتھ کروز میزائل بھی جدید جنگ کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ ان کی رفتار نسبتاً کم ہوتی ہے مگر ان کی درستگی بہت زیادہ ہوتی ہے۔

امریکہ کا Tomahawk کروز میزائل تقریباً 1600 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ روس کا Kalibr میزائل تقریباً 2500 کلومیٹر تک مار کرتا ہے جبکہ چین کا CJ-10 تقریباً 1500 کلومیٹر تک انتہائی درستگی کے ساتھ حملہ کر سکتا ہے۔

گزشتہ ایک دہائی میں جنگی ڈرونز نے جنگ کے انداز کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ پہلے ڈرون صرف نگرانی کے لیے استعمال ہوتے تھے مگر اب یہ براہِ راست حملہ کرنے والے ہتھیار بن چکے ہیں۔

امریکہ کا MQ-9 Reaper ایک طاقتور حملہ آور ڈرون ہے جبکہ ترکی کا Bayraktar TB2 کئی جنگوں میں مؤثر ثابت ہو چکا ہے۔ ایران کا Shahed-136 ایک کم قیمت مگر مؤثر ڈرون ہے جو ہزاروں کلومیٹر دور تک حملہ کر سکتا ہے۔ اسرائیل کا Heron TP بھی نگرانی اور حملے دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

ڈرونز کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ نسبتاً سستے ہوتے ہیں اور بڑی تعداد میں استعمال کیے جا سکتے ہیں، جس سے دفاعی نظام کے لیے انہیں روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اگر ایٹمی ہتھیاروں کی بات کی جائے تو دنیا میں موجود ایٹمی ہتھیاروں کی مجموعی تعداد اب بھی ہزاروں میں ہے۔ عالمی سطح پر ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد اور ان کی تقسیم کے بارے میں مستند معلومات Stockholm International Peace Research Institute اور Federation of American Scientists کی رپورٹس میں بھی شائع ہوتی رہتی ہیں۔

روس کے پاس تقریباً 6000 ایٹمی وارہیڈ موجود ہیں جبکہ امریکہ کے پاس تقریباً 5500۔ چین کے پاس تقریباً 500، فرانس کے پاس تقریباً 290 اور برطانیہ کے پاس تقریباً 225 ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔

جنوبی ایشیا میں پاکستان کے پاس تقریباً 170 سے 200 جبکہ بھارت کے پاس تقریباً 160 سے 170 ایٹمی وارہیڈ موجود ہیں۔ شمالی کوریا کے پاس اندازاً 50 سے 60 اور اسرائیل کے پاس تقریباً 90 ایٹمی ہتھیار ہونے کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔

ان میں سب سے زیادہ خطرناک نظام Intercontinental Ballistic Missiles (ICBM) اور Submarine Launched Ballistic Missiles (SLBM) ہیں کیونکہ یہ چند منٹوں میں براعظموں کے درمیان سفر کر سکتے ہیں۔

جدید دنیا میں میزائل حملوں کی بروقت نشاندہی کے لیے طاقتور ریڈار اور سیٹلائٹ سسٹمز استعمال کیے جاتے ہیں۔ انہی میں سے ایک اہم نظام AN/FPS-132 Early Warning Radar ہے جو ہزاروں کلومیٹر دور سے آنے والے میزائلوں کا سراغ لگا سکتا ہے۔

یہ ریڈار امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے میزائل دفاعی نظام کا اہم حصہ ہے اور برطانیہ کے RAF Fylingdales، گرین لینڈ کے Pituffik Space Base اور الاسکا کے Clear Space Force Station پر نصب ہے۔ عام طور پر اگر کوئی بیلسٹک میزائل فائر ہو جائے تو یہ نظام لانچ کے دو سے پانچ منٹ کے اندر اس کا سراغ لگا لیتا ہے۔

دنیا کے چند ممالک نے کثیر سطحی میزائل دفاعی نظام تیار کیے ہیں۔ ان دفاعی نظاموں کی تکنیکی تفصیلات بھی عالمی دفاعی تحقیقی اداروں کی رپورٹس میں بیان کی جاتی ہیں۔

اسرائیل کے پاس Iron Dome، David’s Sling اور Arrow-3 جیسے نظام موجود ہیں۔ امریکہ کے پاس THAAD، Patriot PAC-3 اور Ground-Based Midcourse Defense جیسے نظام ہیں۔ روس نے S-400 اور S-500 جیسے نظام تیار کیے ہیں جبکہ چین HQ-19 اور HQ-22 پر کام کر رہا ہے۔

اس کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ کوئی بھی دفاعی نظام سو فیصد مؤثر نہیں ہوتا۔

جوہری جنگ صرف چند شہروں کی تباہی تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے عالمی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق بڑے پیمانے پر ایٹمی دھماکوں کے بعد فضا میں دھواں اور راکھ پھیل سکتی ہے جو سورج کی روشنی کو زمین تک پہنچنے سے روک سکتی ہے۔ اس صورتحال کو Nuclear Winter کہا جاتا ہے۔

اسی خطرے کے پیش نظر کئی ممالک نے زیر زمین پناہ گاہیں بھی بنا رکھی ہیں۔ امریکہ میں Mount Weather Emergency Operations Center اور Cheyenne Mountain Complex، برطانیہ کا Burlington Bunker، روس کا Kosvinsky Mountain Bunker اور چین کا Beijing Underground City ایسے ہی مراکز ہیں جہاں ایٹمی جنگ کی صورت میں حکومتیں اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکتی ہیں۔

نجی سطح پر بھی Vivos Underground Bunker Network جیسے منصوبے موجود ہیں جہاں ہزاروں افراد کو مہینوں یا سالوں تک زندہ رکھنے کی صلاحیت موجود ہے۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ عالمی سطح پر پیدا ہونے والی خوراک اتنی ہے کہ نظریاتی طور پر ہر انسان کو روزانہ تقریباً 4200 کیلوریز مل سکتی ہیں، جبکہ انسانی جسم کو اوسطاً صرف 2100 سے 2500 کیلوریز کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس کے باوجود تقریباً نو فیصد عالمی آبادی شدید غذائی قلت کا شکار ہے۔ اس کی بنیادی وجہ خوراک کی کمی نہیں بلکہ اس کی غیر مساوی تقسیم، غربت، جنگیں اور خوراک کا ضیاع ہے۔ عالمی اندازوں کے مطابق دنیا میں پیدا ہونے والی تقریباً ایک تہائی خوراک ضائع ہو جاتی ہے۔

اگر معاشی پہلو دیکھا جائے تو دنیا میں موجود ایٹمی اور جدید ہتھیاروں کی مجموعی مالیت تقریباً 20 ٹریلین ڈالر کے قریب سمجھی جاتی ہے۔ دوسری طرف پوری دنیا کے آٹھ ارب انسانوں کو ایک سال تک مکمل خوراک فراہم کرنے کے لیے تقریباً 8.8 ٹریلین ڈالر درکار ہیں۔

یعنی دنیا میں موجود ہتھیاروں کی مالیت تقریباً دو سال کی عالمی خوراک کے برابر ہے۔

یہ اعداد و شمار ایک بنیادی سوال اٹھاتے ہیں۔ کیا انسان نے اپنی صلاحیتیں زندگی کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کی ہیں یا تباہی کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے؟

آج انسان چند منٹوں میں پوری تہذیب کو تباہ کرنے کی طاقت رکھتا ہے مگر اسی زمین پر کروڑوں انسان بنیادی خوراک سے محروم ہیں۔ یہی وہ تضاد ہے جو ہمارے عہد کی سب سے بڑی اخلاقی آزمائش بن چکا ہے۔

انسانیت کی بقا صرف ٹیکنالوجی سے نہیں بلکہ عقل، انصاف اور عالمی ذمہ داری سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر دنیا نے طاقت کے بجائے توازن، تعاون اور انسانیت کو ترجیح نہ دی تو یہ مہلک ہتھیار صرف دشمنوں کو نہیں بلکہ پوری انسانیت کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

شاید تاریخ کے اس موڑ پر انسانیت کو ایک بنیادی فیصلہ کرنا ہوگا — کیا مستقبل ہتھیاروں کا ہوگا یا انسانوں کا۔

نوٹ:
یہ تمام اعداد و شمار مختلف عالمی تحقیقی اداروں جیسے SIPRI، FAS، CSIS، IISS، United Nations اور FAO کی دستیاب رپورٹس اور عالمی دفاعی مطالعات پر مبنی ہیں۔

***

Share this content: