ایران میں علما کی مجلس Assembly of Experts نے آیت اللہ Mojtaba Khamenei کو ملک کا نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا ہے۔
یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب اسرائیل اور امریکہ کے حملوں میں سابق رہبرِ اعلیٰ Ali Khamenei کے مارے جانے کی خبر سامنے آئی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق علما کی مجلس نے ہنگامی اجلاس میں نئے رہنما کے انتخاب پر غور کیا اور مجتبیٰ خامنہ ای کو اسلامی جمہوریہ Iran کا تیسرا سپریم لیڈر مقرر کرنے کا اعلان کیا۔
مجتبیٰ خامنہ ای، جن کی عمر تقریباً 56 سال بتائی جا رہی ہے، کو ماہرین کی اسمبلی کے ارکان کی اکثریتی رائے سے اس منصب کے لیے منتخب کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ مشکل حالات کے باوجود نئے رہنما کے انتخاب میں کسی قسم کی تاخیر نہیں کی گئی۔
دوسری جانب ایران کی طاقتور فوجی تنظیم Islamic Revolutionary Guard Corps نے بھی اتوار کو مجتبیٰ خامنہ ای سے وفاداری کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ نئے ولیِ فقیہ کے احکامات کی مکمل تعمیل کے لیے تیار ہیں۔
ادھر امریکی صدر Donald Trump نے اس تقرری پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران اس معاملے میں امریکہ سے منظوری نہیں لیتا تو نئی قیادت زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکے گی۔
تاہم ایران کے وزیر خارجہ Abbas Araghchi نے امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے داخلی فیصلوں میں کسی بیرونی مداخلت کو قبول نہیں کرے گا اور قیادت کا انتخاب مکمل طور پر ایرانی عوام اور اداروں کا معاملہ ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کو ایک سخت گیر اور قدامت پسند رہنما سمجھا جاتا ہے اور ماضی میں ان کے انقلابی گارڈز کے ساتھ قریبی تعلقات بھی رہے ہیں۔
Share this content:


