اسرائیل ایران کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے متجاوز، عالمی منڈیوں میں تشویش

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اسرائیل و امریکہ کی ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی ہیں۔

تیل کی قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی کا رجحان دیکھا گیا ہے جبکہ مختلف ممالک مہنگائی اور توانائی کے بحران کے خدشات کے پیش نظر صورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کے بند ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس اہم بحری راستے سے دنیا بھر کو تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی کیا جاتا ہے، اس لیے اگر اس راستے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

عالمی منڈی میں امریکی کروڈ آئل کی قیمت میں تقریباً 20 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو جولائی 2022 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ اسی طرح برینٹ آئل کی قیمت 17 فیصد اضافے کے بعد 108.73 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جبکہ گزشتہ ہفتے کے دوران برینٹ آئل کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 28 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

دوسری جانب امریکی صدر Donald Trump نے تیل کی بڑھتی قیمتوں پر ردعمل دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ جب ایران کے جوہری خطرے کا خاتمہ ہو جائے گا تو تیل کی قیمتیں بھی اسی تیزی سے نیچے آ جائیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے جوہری خطرے کا خاتمہ امریکہ اور دنیا کے تحفظ اور امن کے لیے ایک “چھوٹی سی قیمت” ہے۔

Share this content: