دوسری جنگِ عظیم کے آخری مہینوں میں 9 مارچ 1945 کی رات جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو پر ہونے والی شدید فضائی بمباری کو آج بھی جاپانی عوام ’سیاہ برف کی رات‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ یہ حملہ جنگ کے دوران سب سے تباہ کن فضائی کارروائیوں میں شمار ہوتا ہے۔
اس رات United States Army Air Forces کے 300 سے زائد B‑29 Superfortress بمبار طیاروں نے Operation Meetinghouse کے تحت ٹوکیو کے گنجان آباد علاقوں پر آتش گیر بم برسائے۔ بمباری کے نتیجے میں شہر کے وسیع حصے میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
تاریخی ریکارڈ کے مطابق اس ایک رات میں تقریباً ایک لاکھ افراد ہلاک ہوئے، جبکہ 16 مربع میل سے زائد علاقہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ آگ اور تباہی کے باعث دس لاکھ سے زائد شہری بے گھر ہو گئے تھے۔
ماہرین کے مطابق یہ حملہ انسانی تاریخ کے مہلک ترین فضائی حملوں میں سے ایک تھا، جس نے نہ صرف ٹوکیو کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا بلکہ جاپان کی جنگی حکمتِ عملی اور مستقبل کے فیصلوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔
Share this content:


