پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کی معیشت: وسائل کی سرزمین مگر محرومی کی کہانی

تحریر: خواجہ کبیر احمد

یوں تو پوری ریاست جموں کشمیر قدرتی حسن، وسیع آبی وسائل اور زرخیز زمینوں کی سرزمین ہے۔ بلند پہاڑوں سے بہتے دریا، سرسبز وادیاں، گھنے جنگلات اور دلکش مناظر اس خطے کو دنیا کے خوبصورت ترین علاقوں میں شمار کراتے ہیں۔ قدرت نے اس سرزمین کو ایسے وسائل عطا کیے ہیں جو کسی بھی معاشرے کو معاشی خوشحالی کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود خاصکر پاکستان کے زیر انتظام ریاست جمون کشمیر کی ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ یہاں کے عوام معاشی مشکلات، بے روزگاری اور بنیادی سہولتوں کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔

یہ تضاد ایک بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے کہ اگر ایک خطہ وسائل سے مالا مال ہو تو وہاں کے لوگ محروم کیوں رہتے ہیں؟

پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے دریاؤں میں پن بجلی پیدا کرنے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ بڑے بڑے ہائیڈرو پاور منصوبے اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ خطہ توانائی کے میدان میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ مگر اکثر ایسا دیکھا گیا ہے کہ ان وسائل سے پیدا ہونے والی دولت کا بڑا حصہ مقامی معیشت کو مضبوط بنانے کے بجائے کہیں اور استعمال ہو جاتا ہے، جبکہ مقامی آبادی کو اس حقیقت کے باوجود کے عوامی حقوق کی تحریک کے نتیجہ میں بجلی سستی ہوئی مگر بجلی اور بنیادی سہولتیں مکمل طور پر میسر نہیں ہوتیں۔

اسی طرح سیاحت کے شعبے کو دیکھا جائے تو جموں کشمیر کا یہ خطہ اپنی قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر اس شعبے کو جدید بنیادوں پر ترقی دی جائے، سیاحتی انفراسٹرکچر بہتر بنایا جائے اور مقامی لوگوں کو اس صنعت میں مرکزی کردار دیا جائے تو سیاحت لاکھوں لوگوں کے لیے روزگار کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ مگر اس شعبے کی ترقی اکثر منصوبہ بندی کی کمی اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کی وجہ سے اپنی مکمل صلاحیت تک نہیں پہنچ پاتی۔

زراعت اور باغبانی بھی اس خطے کی معیشت کا اہم حصہ ہیں۔ سیب، اخروٹ، شہد اور دیگر زرعی پیداوار نہ صرف مقامی معیشت کو سہارا دے سکتی ہیں بلکہ برآمدات کے ذریعے خطے کے لیے قیمتی زرِ مبادلہ بھی کما سکتی ہیں۔ تاہم جدید زرعی ٹیکنالوجی، بہتر مارکیٹ تک رسائی اور حکومتی سرپرستی کی کمی اکثر اس راہ میں بھی رکاوٹ بن جاتی ہے۔

اس خطے کی معیشت کا ایک اور اہم پہلو نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی بے روزگاری ہے۔ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود بہت سے نوجوان مناسب روزگار کے مواقع نہ ملنے کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اگر ٹیکنالوجی، آئی ٹی، فری لانسنگ اور چھوٹے کاروبار کے شعبوں میں منظم پروگرام شروع کیے جائیں تو نوجوان نہ صرف خود کفیل بن سکتے ہیں بلکہ خطے کی معیشت میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

یہ تمام حقائق اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ ان کے منصفانہ اور مؤثر استعمال کا ہے۔ اگر معاشی پالیسیوں کا مرکز عوام کی فلاح کو بنایا جائے، وسائل کی آمدنی کا بڑا حصہ مقامی ترقی پر خرچ کیا جائے اور شفاف حکمرانی کو یقینی بنایا جائے تو یہ خطہ معاشی طور پر ایک مضبوط اور خود کفیل خطہ بن سکتا ہے۔

یہی حقیقت ہے کہ کسی بھی خطے کی حقیقی ترقی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب وہاں کے لوگ اپنے وسائل سے فائدہ اٹھانے کے قابل ہوں اور انہیں ترقی کے برابر مواقع حاصل ہوں۔ اس خطے کے عوام بھی اسی حق کے مستحق ہیں۔

اگر مستقبل کی پالیسیوں میں عوامی فلاح، شفاف حکمرانی اور مقامی وسائل کے منصفانہ استعمال کو بنیادی اصول بنایا جائے تو وہ دن دور نہیں جب یہ خطہ صرف قدرتی حسن ہی نہیں بلکہ معاشی خوشحالی کی مثال بھی بن سکتا ہے۔ کیونکہ کسی بھی سرزمین کی اصل طاقت اس کے وسائل نہیں بلکہ اس کے باخبر، باصلاحیت اور باوقار لوگ ہوتے ہیں۔

٭٭٭

Share this content: