نطنز جوہری مرکز پر حملہ: تابکاری خارج نہ ہونے کی تصدیق

انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے نطنز جوہری مرکز پر حالیہ حملے کے بعد کسی قسم کی تابکاری خارج نہیں ہوئی۔

ادارے کے مطابق ایرانی حکام نے نطنز تنصیب پر حملے کی اطلاع دی تھی، جس کے بعد ایرانی ایٹمی توانائی تنظیم ایران کی ابتدائی تشخیص—کہ تابکاری کا کوئی اخراج نہیں ہوا—کی توثیق کر دی گئی ہے۔

آئی اے ای اے نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔ ادارے کے سربراہ رافائل گروسی نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ کسی ممکنہ جوہری حادثے سے بچا جا سکے۔

دوسری جانب ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے ہفتے کے روز وسطی ایران میں واقع نطنز کی جوہری تنصیب کو نشانہ بنایا، جو یورینیم افزودگی کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

ایرانی ایٹمی توانائی تنظیم نے اپنے بیان میں حملے کو “امریکہ اور صہیونی ریاست” کی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ افزودگی کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا، تاہم اس کے نتیجے میں نہ تو تابکار مواد خارج ہوا اور نہ ہی قریبی آبادی کو کوئی خطرہ لاحق ہے۔

واضح رہے کہ مغربی ممالک طویل عرصے سے ایران کے جوہری پروگرام پر خدشات ظاہر کرتے آئے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ ایران یورینیم کو اس سطح تک افزودہ کر رہا ہے جو جوہری ہتھیار سازی کے لیے موزوں ہو سکتی ہے، جبکہ تہران ان الزامات کی مسلسل تردید کرتا رہا ہے۔

یاد رہے کہ جاری کشیدگی کے دوران یہ نطنز تنصیب پر دوسرا حملہ ہے۔ اس سے قبل بھی حملے کے بعد سیٹلائٹ تصاویر میں تنصیب کی متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچنے کے شواہد سامنے آئے تھے۔

Share this content: