امریکہ کا ایران کے خلاف سخت مؤقف برقرار،جوہری تنصیبات پر حملے کا آپشن بھی موجود

ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں امریکی قیادت نے واضح کیا ہے کہ تہران کے خلاف واشنگٹن کے پاس موجود تمام عسکری آپشنز کھلے ہیں، جن میں ایران کی جوہری توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔

اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے سی بی ایس کے پروگرام فیس دی نیشن میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے حوالے سے کوئی بھی آپشن "خارج از امکان نہیں” سمجھا جا رہا۔

مائیک والٹز نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر بھی ردعمل دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ ایران کی میزائل صلاحیت اور دفاعی صنعت کے ڈھانچے کو "مکمل طور پر ختم کرنے” کے قریب ہے۔ والٹز کے مطابق پاسدارانِ انقلاب (IRGC) ایران کے اہم انفراسٹرکچر اور حکومتی اداروں پر گہرا اثر رکھتی ہے، اسی لیے ایران کی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنے کے لیے "تمام آپشنز میز پر ہونے چاہئیں۔”

ٹرمپ نے جمعے کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ میں اپنی عسکری کارروائیوں میں کمی پر غور کر رہا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ ایران کو کبھی بھی جوہری صلاحیت کے قریب نہیں آنے دیا جائے گا۔ ان کے مطابق امریکہ ایران کی بحریہ، فضائیہ اور طیارہ شکن نظام کو بھی غیر مؤثر بنانا چاہتا ہے تاکہ خطے میں اپنے اتحادیوں کا "اعلیٰ ترین سطح پر” دفاع کیا جا سکے۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی اس مؤقف کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ 28 فروری کو ایران کے خلاف پہلی کارروائی کے بعد سے واشنگٹن کے اہداف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ان کے مطابق امریکہ کا بنیادی مقصد ایران کے میزائل لانچرز، دفاعی صنعت اور بحریہ کو تباہ کرنا ہے، اور یہ یقینی بنانا ہے کہ تہران کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل نہ کر سکے۔

امریکی قیادت کے یہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران کے خلاف واشنگٹن کی حکمتِ عملی نہ صرف سخت ہے بلکہ مستقبل قریب میں مزید عسکری اقدامات کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جا رہا۔

Share this content: