یو این پی او The Unrepresented Nations and Peoples Organization (UNPO) نے گلگت بلتستان میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
بیان میں سیاسی رہنما اور گلگت بلتستان یونائیٹڈ موومنٹ کے سربراہ شبیر مایار کو فوری اور ضروری طبی علاج سے محروم رکھنے کی رپورٹس پر شدید تحفظات ظاہر کیے گئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ UNPO پاکستانی حکام سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ شبیراحسین میار کو بلا تاخیر مکمل طبی سہولیات فراہم کریں اور خطے میں بنیادی انسانی حقوق کے تقاضوں کو یقینی بنائیں۔
گلگت بلتستان، جو تقریباً دو ملین آبادی پر مشتمل ایک وسیع و عریض پہاڑی خطہ ہے، 1947 سے پاکستان کے انتظام میں ہے مگر تاحال اسے آئینی حیثیت حاصل نہیں۔ اس عدم شناخت کے باعث مقامی آبادی نہ صرف سیاسی نمائندگی سے محروم ہے بلکہ انہیں آزادی اظہار، اجتماع اور سیاسی شرکت جیسے بنیادی حقوق پر بھی مسلسل پابندیوں کا سامنا ہے۔
خطے میں دیرینہ سیاسی محرومیوں اور نمائندگی کے فقدان نے عوامی بے چینی میں اضافہ کیا ہے۔ حالیہ مہینوں میں شدید بجلی بحران کے باعث پانی کی فراہمی متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں خواتین کی قیادت میں احتجاجی مظاہرے سامنے آئے۔ اسی دوران ایران میں امریکی حملوں کے بعد خطے میں ہونے والے احتجاج پر سکیورٹی فورسز کی مبینہ فائرنگ سے کم از کم چودہ افراد کی ہلاکت کی رپورٹس سامنے آئیں، جس کے بعد تین روزہ کرفیو اور مقامی سطح پر مواصلاتی پابندیاں نافذ کی گئیں۔
اسی پس منظر میں شبیراحسین میار کا معاملہ سنگین انسانی حقوق کے خدشات کو مزید اجاگر کرتا ہے۔ میار کو اکتوبر 2023 میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنان کی رہائی کے لیے احتجاج کی قیادت کر رہے تھے۔ ان پر پاکستان کے انسدادِ دہشتگردی ایکٹ (ATA) کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا—ایک ایسا قانون جو اکثر سیاسی کارکنوں اور ناقدین کے خلاف استعمال کیے جانے پر تنقید کا نشانہ بنتا رہا ہے۔ میار کو مسلسل نگرانی، نقل و حرکت پر پابندیوں اور طویل نظربندی کا سامنا ہے، جبکہ وہ ایک سنگین بیماری میں مبتلا ہیں اور انہیں خصوصی طبی نگہداشت کی فوری ضرورت ہے۔
اسی طرح، سینئر وکیل اور عوامی ایکشن کمیٹی کے سربراہ احسان علی کی حالیہ گرفتاری نے بھی خطے میں انسدادِ دہشتگردی قوانین کے استعمال پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ان کی گرفتاری کے خلاف وکلاء برادری نے بھرپور احتجاج کیا، جس کے نتیجے میں عدالتی کارروائیاں متاثر ہوئیں۔ احسان علی کی صحت کے حوالے سے بھی سنگین خدشات موجود ہیں، اور ان کے وکلاء نے فوری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے درخواست دائر کی ہے۔
زیرِ حراست افراد کو ضروری طبی علاج سے محروم رکھنا بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کی سنگین خلاف ورزی ہے، جس میں حقِ صحت اور انسانی وقار کے تحفظ کی بنیادی ذمہ داریاں شامل ہیں۔ یہ صورتحال پاکستان میں سیاسی کارکنوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے وسیع تر رویوں کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ حالیہ مہینوں میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے متعدد بلوچ کارکنوں کی بگڑتی صحت اور طبی سہولیات کی عدم فراہمی پر بھی تشویش ظاہر کی ہے، جبکہ بین الاقوامی میڈیا نے سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت کے حوالے سے بھی خدشات رپورٹ کیے ہیں۔
گلگت بلتستان کے انسانی حقوق کے مسائل صرف سیاسی نوعیت تک محدود نہیں۔ خطہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور سیاحت کے بڑھتے رجحان نے ماحولیاتی دباؤ میں اضافہ کیا ہے۔ بڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبے، خصوصاً چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) سے منسلک سرگرمیاں، مقامی آبادی کے لیے زمینوں کے حصول، معاشی محرومی اور ماحولیاتی خطرات جیسے مسائل پیدا کر رہی ہیں۔ دیامر بھاشا ڈیم اس کی نمایاں مثال ہے، جس پر ماحولیاتی اثرات، زمین کے حصول اور سکیورٹی خدشات کے باعث مسلسل احتجاج جاری ہے۔
اسی طرح، خنجراب پاس کے ذریعے پاک چین تجارت میں اضافے کے باوجود مقامی تاجروں کا کہنا ہے کہ اس معاشی سرگرمی کے ثمرات خطے تک نہیں پہنچ رہے، جبکہ ماحولیاتی اور سماجی بوجھ مقامی آبادی ہی برداشت کر رہی ہے۔
آئینی شناخت اور سیاسی نمائندگی کے فقدان کے باعث گلگت بلتستان کے عوام کے پاس اپنے حقوق کے تحفظ اور فیصلوں میں شمولیت کے محدود ذرائع موجود ہیں۔ خطے میں دیرپا استحکام اور انصاف کے لیے ضروری ہے کہ حقِ خودارادیت، سیاسی نمائندگی، اور بنیادی انسانی حقوق کا احترام یقینی بنایا جائے۔
UNPO حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کرتی ہے کہ شبیراحسین مایار کو فوری اور بلا رکاوٹ طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ گلگت بلتستان میں آزادی اظہار، اجتماع اور سیاسی شرکت کے بنیادی حقوق کا احترام کیا جائے۔ پرامن سیاسی کارکنوں کے خلاف انسدادِ دہشتگردی قوانین کے استعمال کو فوری طور پر روکا جائے۔
Share this content:


