سیاسی بیانیے پر شوکت نواز میر کے خلاف سائبر کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سیاسی و سماجی سرگرمیوں کے حوالے سے ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ریاست مخالف بیانیے کے الزام میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبر شوکت نواز میر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مقدمہ سائبر کرائم قوانین کے تحت درج کیا گیا، تاہم ایف آئی آر کی مکمل تفصیلات تاحال منظر عام پر نہیں لائی گئیں، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبر شوکت نواز میر کے فیس بک اکاؤنٹ سے جاری بیان میں اس اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم “کشمیر ڈیجیٹل” نے ہمیشہ ایکشن کمیٹی اور عوامی حقوق کے خلاف بیانیہ پیش کیا اور اسی تناظر میں اس خبر کو بھی نشر کیا گیا۔

بیان میں حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایف آئی آر کا مکمل متن عوام کے سامنے لایا جائے تاکہ حقائق واضح ہو سکیں۔

ایکشن کمیٹی کے مطابق انہوں نے ہمیشہ آئین، قانون اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق چارٹر کے دائرے میں رہتے ہوئے عوامی حقوق کی بات کی ہے، اور سوشل میڈیا کا استعمال کسی بھی طور جرم نہیں۔

مزید کہا گیا کہ اگر حکام کی جانب سے فوری اور تسلی بخش وضاحت نہ دی گئی تو اس اقدام کو ریاست بھر میں اشتعال کا سبب قرار دیتے ہوئے پریس کانفرنس کے ذریعے پس پردہ عوامل کو بے نقاب کیا جائے گا۔

یہ معاملہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں اظہارِ رائے، سوشل میڈیا کی آزادی اور ریاستی پالیسیوں پر تنقید کے حوالے سے بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر رہی ہے۔

Share this content: