امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مبینہ 15 نکاتی امن منصوبے نے خطے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، تاہم اس منصوبے کی کوئی سرکاری تفصیل سامنے نہیں آئی۔ دوسری جانب ایرانی عوام کی ایک بڑی تعداد اس پورے عمل پر عدم یقین کا اظہار کر رہی ہے۔
اگرچہ وائٹ ہاؤس نے منصوبے کی تصدیق نہیں کی، لیکن اسرائیلی اور امریکی میڈیاخصوصاً اسرائیل کے چینل 12—نے اس کے چند ممکنہ نکات رپورٹ کیے ہیں، جن کے مطابق ایران سے ممکنہ مطالبات، نطنز، اصفہان اور فردو کی جوہری تنصیبات کو غیر فعال کر کے ختم کرنا، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کی مکمل شفاف نگرانی، خطے میں مسلح پراکسی گروہوں کی حمایت اور فنڈنگ کا خاتمہ، جمع شدہ جوہری صلاحیتوں کا مکمل خاتمہ، جوہری ہتھیار نہ بنانے کا باضابطہ عہد، ایرانی سرزمین پر یورینیم کی افزودگی کا مکمل خاتمہ اور موجودہ افزودہ مواد IAEA کے حوالے کرنا، آبنائے ہرمز کو ’آزاد بحری زون‘ قرار دینا، میزائل پروگرام پر بعد میں فیصلہ، تاہم تعداد اور حد مقرر کرنا اور اسے دفاعی مقاصد تک محدود رکھنا۔
بدلے میں بوشہر میں سویلین جوہری توانائی منصوبے کی ترقی میں امریکی تعاون، ایران پر تمام اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ، مستقبل میں پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کے خطرے کا خاتمہ شامل تھے ۔
میڈیا رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مذاکرات کے دوران ایک ماہ کی جنگ بندی پر بھی بات ہو سکتی ہے، تاہم اس کی بھی کوئی سرکاری تصدیق موجود نہیں۔
بی بی سی فارسی نے ایران میں انٹرنیٹ پابندیوں کے باوجود مختلف شہروں کے شہریوں سے رابطہ کیا، جن میں سے اکثر نے مذاکرات کی خبروں پر عدم اعتماد ظاہر کیا۔
ایک شہری نے کہا ’مجھے نہیں لگتا کہ وہ (امریکہ) مذاکرات کریں گے۔ چاہے جنگ رک بھی جائے، یہ کسی نہ کسی وقت دوبارہ شروع ہو جائے گی۔‘
ان کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران اس وقت ’مضبوطی سے قائم‘ ہے۔
تہران میں ایک خاتون نے کہا ’ٹرمپ مذاکرات کی بات کر کے وقت حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ جنگ کو ایک اور مرحلے میں لے جا سکیں… مجھے نہیں لگتا کہ وہ کوئی معاہدہ کریں گے۔‘
20 سالہ ایک خاتون نے کہا کہ وہ صرف چاہتی ہیں کہ یہ صورتحال جلد ختم ہو جائے۔
’مجھے نہیں معلوم کہ کیا ہو رہا ہے… میں اگلے مراحل کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتی۔‘
ایران میں انٹرنیٹ کی بندش کے باعث عوام عالمی خبروں تک محدود رسائی رکھتے ہیں، جس سے بے یقینی مزید بڑھ رہی ہے۔
Share this content:


