ایران جنگ کے اثرات: ایشیا میں توانائی بحران، ہنگامی اقدامات پر غور

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور ایران سے جڑی جنگی صورتحال کے باعث ایشیائی ممالک کو شدید توانائی بحران کا سامنا ہے، جس کے پیشِ نظر متعدد حکومتیں کورونا وبا کے دوران اختیار کیے گئے اقدامات جیسے ورک فرام ہوم اور اسمارٹ لاک ڈاؤن دوبارہ نافذ کرنے پر غور کر رہی ہیں۔

توانائی ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش نے صورتحال کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے، کیونکہ ایشیائی ممالک کا تقریباً 80 فیصد تیل اسی راستے سے درآمد کیا جاتا ہے۔ سپلائی میں تعطل کے خدشات نے تیل کی عالمی منڈی میں بے یقینی پیدا کر دی ہے۔

ابھی تک کسی ملک نے باضابطہ طور پر ورک فرام ہوم پالیسی نافذ نہیں کی، تاہم مختلف سطحوں پر اس پر سنجیدہ غور جاری ہے۔ پاکستان سمیت کئی ممالک نے فوری طور پر توانائی بچت کے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) نے اپنے اسٹرٹیجک ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل جاری کرتے ہوئے ممالک کو مشورہ دیا ہے کہ وہ توانائی کے استعمال میں کمی کے لیے ورک فرام ہوم، فضائی سفر میں کمی اور دیگر احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ ادارے کے سربراہ فاتح بیرول نے سڈنی میں ایک کانفرنس کے دوران کہا کہ یوکرین جنگ کے بعد یورپ میں اسی نوعیت کے اقدامات مؤثر ثابت ہوئے تھے۔

رپورٹس کے مطابق کچھ ممالک نے ایندھن کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے معیار میں نرمی کرتے ہوئے پیٹرول اور ڈیزل میں ملاوٹ کی اجازت دی ہے، جبکہ کئی حکومتوں نے اپنے اسٹرٹیجک ذخائر سے بھی ایندھن مارکیٹ میں فراہم کرنا شروع کر دیا ہے۔

ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر صورتحال طویل ہوئی تو نہ صرف توانائی بلکہ معیشت، ٹرانسپورٹ اور صنعتی شعبے بھی شدید متاثر ہو سکتے ہیں، جس کے باعث خطے میں مزید سخت اقدامات ناگزیر ہو جائیں گے۔

Share this content: