مظفرآباد/ کاشگل نیوز
نیشنل سائبر کرائم ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبر شوکت نواز میر کے خلاف مبینہ ریاست مخالف بیانیے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مقدمے کی خبر 25 مارچ کی شام ایک ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے سامنے آئی، جس کے بعد سیاسی و سماجی حلقوں میں بحث کا آغاز ہو گیا۔
شوکت نواز میر نے دو روز قبل مظفرآباد کے نواحی علاقے کہوڑی میں عوامی ایکشن کمیٹی کے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کو مخاطب کرتے ہوئے سوالات اٹھائے تھے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں 29 ستمبر کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس روز “امن کہاں تھا جب ایکشن کمیٹی کے کارکنان کو نشانہ بنایا گیا، جس میں لوگ شہید اور زخمی ہوئے۔”
تقریر کے بعد سامنے آنے والی اس پیشرفت پر عوامی ایکشن کمیٹی نے سخت ردعمل دیا ہے۔
تنظیم کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جس ڈیجیٹل چینل نے یہ خبر بریک کی، اس پر پہلے بھی کمیٹی کے خلاف “پروپیگنڈا مہم” چلانے کے الزامات عائد کیے جا چکے ہیں۔
ان کا مؤقف ہے کہ یہ مقدمہ آزادیٔ اظہار کو دبانے کی ایک کوشش ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب، سرکاری سطح پر اس مقدمے کی تفصیلات یا الزامات کی نوعیت سے متعلق باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف سیاسی کشیدگی کو بڑھا سکتا ہے بلکہ ریاستی اداروں اور عوامی تنظیموں کے درمیان تعلقات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب خطے میں پہلے ہی سیاسی و سماجی تناؤ موجود ہے۔
Share this content:


