اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل (UNHRC) کے 61ویں اجلاس میں سابق ترجمان جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی حبیب رحمان نے ایک تفصیلی رپورٹ جمع کرائی ہے جس میں پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر (آزاد کشمیر) اور گلگت بلتستان میں زندگی کے حق کی منظم خلاف ورزیوں، سیاسی جبر اور وسائل کے غیر قانونی استحصال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2024 کے اواخر سے جاری شہری حقوق کی تحریک جس کی قیادت مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی (JKJAAC) کر رہی ہے ، کو پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مہلک طاقت، براہ راست فائرنگ اور ماورائے عدالت قتل کا سامنا ہے۔
دھیرکوٹ قتل عام: 13 مظاہرین براہ راست فائرنگ سےہلاک :
حبیب رحمان نے اپنی جمع کرائی گئی دستاویز میں انکشاف کیا کہ ضلع باغ کے علاقے دھیرکوٹ میں 2025 کے اواخر میں ہونے والے مظاہروں کے دوران کم از کم 13 پرامن مظاہرین کو زندہ گولیاں مار کر قتل کیا گیا۔
میڈیکل رپورٹس کے مطابق کئی افراد کے سر اور اوپری دھڑ پر گولیاں ماری گئیں، جو "ہجوم کو منتشر کرنے” کے بجائے قتل کرنے کے ارادے کی نشاندہی کرتی ہیں۔
راجہ زرنوش اور راجہ جبران کی ٹارگٹ کلنگ:
رپورٹ میں دو نوجوان بھائیوں راجہ زرنوش اور راجہ جبران کے ماورائے عدالت قتل کا خصوصی ذکر کیا گیا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق دونوں کو جھوٹا "دہشت گرد” قرار دے کر نشانہ بنایا گیا، حالانکہ وہ آئی ٹی کے تعلیم یافتہ پیشہ ور تھے۔
حبیب رحمان نے اسے سیاسی شناخت اور نوجوان قیادت کو دبانے کی دانستہ کوشش قرار دیا۔
عدالتی کمیشن سے انکار اور مواصلاتی بلیک آؤٹ:
حکومت پاکستان کی جانب سے ان ہلاکتوں کی آزادانہ تحقیقات کے مطالبے کو مسترد کرنا بھی رپورٹ میں شدید تنقید کا نشانہ بنا۔
مزید برآں، احتجاج کے دوران انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کی مکمل بندش کو "ہلاکتوں کو چھپانے اور معلومات کے بہاؤ کو روکنے کی کوشش” قرار دیا گیا۔
سیاسی جبر، ECL اور شیڈول IV کا غلط استعمال:
حبیب رحمان کے مطابق آزاد کشمیر کے تقریباً 300 کارکنوں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) میں شامل کیے گئے۔ گلگت بلتستان میں درجنوں کارکنان کو شیڈول IV کے تحت سخت پابندیوں کا سامنا ہے۔ شبیر مایار سمیت کئی کارکنوں کی نقل و حرکت محدود ہے ۔ پرامن سیاسی سرگرمیوں کو "سیکورٹی خطرہ” قرار دے کر مقدمات قائم کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات ICCPR کے آرٹیکلز 9، 12، 19، 21 اور 22 کی خلاف ورزی قرار دیے گئے۔
وسائل کا استحصال: "ریسورس کالونیلزم”:
رپورٹ میں الزام لگایا گیا کہ سیاسی جبر کے ساتھ ساتھ حکومت نے خطے میں معدنیات اور قدرتی وسائل کے بڑے پیمانے پر نکالنے کے منصوبوں میں تیزی لائی ہے، جن میں مقامی آبادی کی آزادانہ اور باخبر رضامندی شامل نہیں۔ ماحولیاتی اثرات کے جائزے موجود نہیں۔ مقامی کمیونٹیز کو معاشی فائدہ نہیں دیا جا رہا ہے اور اس عمل کو "وسائل کی نوآبادیات” سے تعبیر کیا گیا۔
حبیب رحمان نے کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ راجہ زرنوش اور راجہ جبران کے قتل کی آزادانہ تحقیقات کرائے۔ ماورائے عدالت قتل کے ذمہ داروں کو جوابدہ بنائے۔ کارکنوں کے خلاف تمام سیاسی مقدمات واپس کرائے۔ ECL اور شیڈول IV سمیت تمام سفری پابندیاں ختم کرانے کا مطالبہ کرے۔ اور وسائل کے منصوبوں میں شفافیت اور انسانی حقوق کے معیارات کی پابندی یقینی بنائے۔
Share this content:


