عالمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے خبردار کیا ہے کہ ایران میں کسی بھی جوہری تنصیب کے قریب حملہ خطے کے لیے شدید خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا ہے جب جنوب مغربی ایران میں بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کے قریب مبینہ حملے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گراسی نے کہا کہ بوشہر ایک فعال جوہری پلانٹ ہے جہاں بڑی مقدار میں جوہری مواد موجود ہے، اور کسی بھی نقصان کی صورت میں تابکاری کے اثرات ایران سے باہر وسیع علاقے تک پھیل سکتے ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں سے "زیادہ سے زیادہ تحمل” کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔
اسی دوران اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کے مختلف حصوں میں فضائی دفاعی نظام، میزائل تنصیبات اور ہتھیار سازی کے مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق تہران میں بیلسٹک میزائل اور دیگر ہتھیار بنانے والے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ مغربی ایران میں میزائل لانچرز اور ذخیرہ گاہوں پر حملے کیے گئے۔
ایران نے ان حملوں کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم خطے میں کشیدگی میں واضح اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران کویت نے بھی اپنی مرکزی تجارتی بندرگاہ شوائیخ پورٹ پر "دشمن ڈرونز” کے حملے کی تصدیق کی ہے۔
کویت پورٹس اتھارٹی کے مطابق بندرگاہ کو نقصان پہنچا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
کویت نے حملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ خلیجی ممالک میں سیکیورٹی الرٹ بڑھا دیا گیا ہے۔
ایران، اسرائیل اور خلیجی ممالک میں حالیہ واقعات نے خطے میں جوہری سلامتی کے خدشات، عسکری تصادم کے امکانات اور تجارتی راستوں کی کمزوری جیسے مسائل کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
آئی اے ای اے نے واضح کیا ہے کہ جوہری تنصیبات کے قریب کسی بھی عسکری کارروائی کے نتائج "ناقابلِ تصور” ہو سکتے ہیں۔
Share this content:


