تحریر: سردار آفتاب خان
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر (آزاد جموں و کشمیر) اسمبلی کی سال 2026 کے انتخابات کے حوالے سے جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی سیاسی صورتحال کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے ۔
آزاد جموں و کشمیر 2026 کے انتخابی مرحلے میں ایسے موڑ پر داخل ہو رہا ہے جہاں تین حقیقتیں ایک ساتھ سامنے کھڑی ہیں :
1۔ روایتی سیاسی دھڑوں سے عوام کی بڑھتی ہوئی بیزاری
2۔3 تا 4 اکتوبر 2025 کے مظفرآباد معاہدے سے پیدا ہونے والی مگر ابھی تک نامکمل پیش رفت، اور
3۔ یہ عوامی توقعات کہ حقوق کی اس تحریک کو اب صرف اخلاقی جرأت ہی نہیں بلکہ سیاسی بلوغت بھی دکھانا ہوگی۔
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کسی انتخابی اتحاد کے طور پر پیدا نہیں ہوئی۔ یہ اس احساس سے ابھری کہ بجلی، روزمرہ سہولتوں، جواب دہی، نمائندگی اورریاستی وسائل پر حق ملکیت اور عوام کے جمہوری حق حکمرانی کے معاملے میں عام لوگوں کے ساتھ دیرینہ ناانصافی ہو رہی ہے۔ یہی اصل حقیت اورعوامی شعور و بیداری جموں کشمیر جواؑینٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی سب سے بڑی طاقت ہے، کیونکہ اس نے اپنی ساکھ کسی خاندان، مقتدر اداروں کی سرپرستی یا اقتدار کے دروازے سے نہیں بلکہ عوامی جدوجہد سے حاصل کی ہے۔
اس لیے اصل سوال صرف یہ نہیں کہ جموں کشمیر جواؑینٹ عوامی ایکشن کمیٹی انتخابات لڑے یا بائیکاٹ کرے۔ اصل سوال یہ ہے کہ تحریک اپنی وحدت، عوامی اعتماد اور اخلاقی برتری کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے اثر کو آئینی اور جمہوری طاقت میں کیسے ڈھالے۔
1 ۔ موجودہ سیاسی لمحہ
مظفرآباد معاہدہ نے آزاد کشمیر کی سیاست میں ایک بنیادی تبدیلی پیدا کی۔ پہلی مرتبہ عوامی شکایات کوحکومتی سطع اور فیصلہ ساز مراکز میں رسمی طور پر تسلیم کیا گیا، مطالبات کو قابلِ عمل نکات میں ڈھالا گیا، اور مانیٹرنگ و امپلیمنٹیشن کا ایک ڈھانچہ قائم ہوا۔ یہ محض وقتی سیاسی مصالحت نہیں تھی بلکہ اس بات کا اعتراف تھا کہ پُرامن عوامی دباؤ نے ریاست کو سنجیدگی سے جواب دینے پر مجبور کیا۔
لیکن اس معاہدے پر عمل درآمد یکساں نہیں رہا۔ کچھ امور میں پیش رفت ہوئی ہے، جیسے انتظامی محکموں اور وزارتوں کی تعداد میں کمی، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور ملازمتوں سے برطرف ملازمین کی بحالی، شہدا کے لواحقین اور زخمی افراد کو معاوضہ جات کی ادائیگی، اوپن میرٹ، ٹیرف سے متعلق چند اقدامات، تعلیمی بورڈز میں کچھ پیش رفت، اور ٹیلی کام و ہیلتھ کارڈ اور عوامی سہولتوں سے متعلق چند فیصلے۔ مگر وہ مسائل جو اعتماد، انصاف اور سیاسی برابری کے مرکز میں ہیں، ابھی تک حل طلب یا متنازع ہیں۔ لہٰذا سب سے بڑا بحران صرف ڈیلیوری کا نہیں، ساکھ کا ہے۔
- پیش رفت ہوئی ہے، مگر یکساں نہیں۔ اس لیے جموں کشمیر جواؑینٹ عوامی ایکشن کمیٹی بجا طور پر کہہ سکتی ہے کہ منظم اور پُرامن جدوجہد نے نتائج پیدا کیے۔
- اعتماد کا خلا بدستور موجود ہے۔ مہاجر / غیر علاقائی نشستوں کا سوال، معاہدے میں طے شدہ ابیئنس فریم ورک، عدالتی جواب دہی، اور شفافیت سے متعلق بنیادی نکات ابھی تک مکمل طور پر حل نہیں ہوئے۔
- عوامی توقعات پہلے سے کہیں زیادہ بلند ہیں۔ جب حکومت کسی معاہدے پر دستخط کر دے تو تاخیر کو محض سستی نہیں بلکہ ممکنہ بدعہدی سمجھا جاتا ہے۔
- انتخابی وقت نے دباؤ بڑھا دیا ہے۔ اب ہر نامکمل نکتہ سیاسی معنی اختیار کر رہا ہے اور ہر بیان کو انتخابی تناظر میں پڑھا جا رہا ہے۔
2 ۔ عوامی مزاج: امید بھی، زخم بھی، احتیاط بھی
آزاد کشمیر کا عوامی مزاج سادہ یا ایک رخا نہیں۔ لوگ قربانیوں کو بھی یاد رکھتے ہیں، روزمرہ مشکلات کو بھی محسوس کرتے ہیں، اور اب یہ بھی سمجھ چکے ہیں کہ اجتماعی اور منظم جدوجہد اداروں کو حرکت میں لا سکتی ہے۔ اسی لیے عوام امید بھی رکھتے ہیں اور شکوک بھی۔ وہ تبدیلی چاہتے ہیں مگر ایک اور سیاسی دکان نہیں چاہتے۔
یہی وجہ ہے کہ جموں کشمیر جواؑینٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے لیے سب سے اہم ووٹر وہ ہے جو نعروں سے زیادہ دیانت، ضبط اور ثبوت کو اہمیت دیتا ہے۔ عوام اس قیادت پر زیادہ بھروسا کریں گے جو سچ بولے، حدیں واضح کرے، اور ناممکن وعدوں کے بجائے قابلِ عمل راستہ دکھائے۔
- روٹی، بجلی، روزگار اور عزت کو جب حقوق کے بیانیے سے جوڑا جاتا ہے تو عوامی ردعمل زیادہ طاقتور بنتا ہے۔
- لوگ مستقل انتشار نہیں چاہتے؛ وہ احتجاج سے تحفظ اور شکایت سے ادارہ جاتی حل تک کا معتبر راستہ چاہتے ہیں۔
- نوجوانوں، متوسط طبقے، متاثرہ خاندانوں اور روایتی سیاست سے بیزار شہریوں میں متبادل قیادت کے لیے واضح گنجائش موجود ہے۔
- البتہ اگر تحریک میں انتشار، انا پرستی یا غیر اصولی مفاہمت کا تاثر پیدا ہوا تو یہی عوام سخت ردعمل بھی دے سکتے ہیں۔
3 ۔ جموں کشمیر جواؑینٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی طاقتیں
- اخلاقی جواز۔ جموں کشمیر جواؑینٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور عوامی حقوۡق تحریک کی ساکھ اقتدار کے دربار سے نہیں بلکہ عوامی میدان سے پیدا ہوئی ہے۔
- طبقاتی اور جغرافیائی وسعت۔ اس نے محنت کشوں، تاجروں، طلبہ، سرکاری ملازمین، متاثرہ خاندانوں اور مختلف اضلاع کے لوگوں کو ایک مشترک زبان دی۔
- موضوعاتی برتری۔ بجلی کے انصاف، نمائندگی کی اصلاح، شفافیت اور جواب دہی جیسے موضوعات پر بیانیہ جموں کشمیر جواؑینٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے قائم کیا۔
- دستاویزی سنجیدگی۔ خطوط، منٹس، اسکور کارڈز اور ٹرم آف ریفرینس( ٹی او آرز) کے ذریعے تحریک نے اپنے آپ کو ثبوت پر مبنی عوامی قوت کے طور پر منوایا۔
- قابلِ اعتماد کہانی۔ یہ تحریک سچے دل سے کہہ سکتی ہے کہ اس نے مراعات نہیں، حقوق مانگے؛ پیش رفت کو تسلیم کیا؛ اور جہاں ثبوت نہ تھا وہاں ثبوت مانگا۔
4 ۔ جموں کشمیر جواؑینٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کمزوریاں اور خطرات
- تنظیمی دباؤ۔ انتخابات کے سوال پر اندرونی اختلافات اگر اصولی نظم سے نہ سنبھالے گئے تو تقسیم پیدا ہو سکتی ہے۔
- انتظامی تجربے کی کمی۔ امیدواروں کی جانچ، مالی شفافیت، قانونی تقاضوں اور پالیسی عمل درآمد کے لیے الگ نوعیت کی تیاری درکار ہے۔
- بیانیاتی حملے۔ مخالفین ایک طرف تحریک کو غیر ذمہ دار احتجاجی قوت اور دوسری طرف انتخاب میں آنے کی صورت میں منافق قرار دینے کی کوشش کریں گے۔
- تحریک کے قبضہ میں چلے جانے کا خطرہ۔ اگر شخصی خواہشات اجتماعی نظم پر غالب آئیں تو تحریک بھی روایتی سیاست جیسی دکھنے لگے گی۔
- حد سے بڑھی ہوئی مزاحمت کا خطرہ۔ انتخابات رکوانے یا روکنے کی کال بغیر وسیع عوامی، اخلاقی اور قانونی جواز کے تحریک کے خلاف جا سکتی ہے۔
5 ۔ اصل تزویراتی (اسٹریجک) انتخاب
اس وقت مجموعی طور پر چار راستے سامنے آتے ہیں، اور ہر راستے کے اپنے مضمرات ہیں۔
- مکمل بائیکاٹ۔ یہ راستہ تحریک کی اصل غیر انتخابی شناخت کو محفوظ رکھ سکتا ہے اور بدعہدی کے خلاف اخلاقی پیغام بھی دے سکتا ہے۔ لیکن اگر اس کے پیچھے بھرپور عوامی اتفاقِ رائے نہ ہوا تو یہ میدان انہی پرانے سیاسی کرداروں کے لیے خالی کر دے گا جنہیں تحریک چیلنج کرتی آئی ہے۔
- عمل درآمد تک انتخابات روکنے کی تحریک۔ جذباتی طور پر اس کی کشش ہو سکتی ہے، مگر سیاسی طور پر یہ سب سے زیادہ پرخطر راستہ ہے۔ اس سے جدوجہد کا محور جواب دہی سے ہٹ کر انتخابی عمل کی مزاحمت بن سکتا ہے، جس سے تحریک کی آئینی پوزیشن کمزور پڑ سکتی ہے۔
- جموں کشمیر جواؑینٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا براہِ راست جماعتی انداز میں انتخابات میں اترنا۔ یہ فوری شناخت تو دے سکتا ہے، مگر فی الحال یہ قبل از وقت قدم ہوگا۔ اس سے پوری تحریک ایک ایسے انتخابی سانچے میں بند ہو سکتی ہے جس کے لیے مکمل ادارہ جاتی تیاری ابھی موجود نہیں۔
- تحریک کو برقرار رکھتے ہوئے منشور کی بنیاد پر ہم خیال آزاد امیدواروں کی حمایت۔ یہ سب سے متوازن راستہ ہے۔ اس میں تحریک اپنی اصل شناخت بچاتے ہوئے ادارہ جاتی میدان میں بھی قدم رکھ سکتی ہے، اور عوام کو شخصیات کے بجائے ایک حقوقی پروگرام پر مجتمع کیا جا سکتا ہے۔
6 ۔ ممکنہ مستقبل کے منظرنامے
دانش مندی یہ ہے کہ ایسی حکمتِ عملی اختیار کی جائے جو ایک سے زیادہ ممکنہ صورتِ حال میں بھی قابلِ عمل رہے۔
منظرنامہ الف: کچھ پیش رفت جاری رہے مگر بنیادی سیاسی نکات بدستور اٹکے رہیں
یہ سب سے زیادہ ممکنہ صورت دکھائی دیتی ہے۔ اس میں جموں کشمیر جواؑینٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو نہ تو ہر پیش رفت کو رد کرنا چاہیے اور نہ ہی نامکمل عمل درآمد کے باوجود خاموش ہو جانا چاہیے۔ درست راستہ یہ ہوگا کہ جہاں حقیقی پیش رفت ہوئی اسے تسلیم کیا جائے، اور جہاں بنیادی نکات التوا میں ہیں وہاں منشور اور عوامی نگرانی کے ساتھ اگلا قدم رکھا جائے۔
منظرنامہ ب: انتخابات سے پہلے اچانک اعلانات اور رعایتیں سامنے آئیں
اس صورت میں خوش آمدید ضرور کہا جائے، مگر اعلان اور تکمیل میں فرق واضح رکھا جائے۔ ہر دعوے کے ساتھ دستاویزی ثبوت، نوٹیفکیشن، ٹائم لائن اور عوامی نگرانی کا مطالبہ کیا جائے۔
منظرنامہ ج: جمہوری گنجائش سکڑنے لگے یا انتقامی فضا بڑھے
اگر ایسا ماحول بنے کہ جمہوری شرکت، اظہاررائے کی آزادی، یا معاہدہ مظفرآباد میں طےشدہ عمل ہی غیر محفوظ ہو جائے، تو پھر تحریک اپنے آئینی حق کے تحت احتجاج، قانونی چارہ جوئی اور مانیٹرننگ اینڈ ایمپلیمینٹیشن میکنزم میں شرکت کی شرائط پر نظرِ ثانی جیسے اقدامات اختیار کر سکتی ہے۔
منظرنامہ د: عوامی دباؤ اس قدر بڑھ جائے کہ الیکشن میں شرکت اور اسمبلی میں نمائندگی سے گریز ممکن نہ رہے
اگر عوام خود بڑی تعداد میں مطالبہ کریں کہ تحریک اب فیصلہ سازی کے منتخب اداروں کے اندر بھی ان کی نمائندگی کرے، تو اس مطالبے کا جواب عجلت یا شخصیت پرستی سے نہیں بلکہ مضبوط منشور، جانچ پرکھ اور سخت عوامی جواب دہی کے ساتھ دیا جانا چاہیے۔
جموں کشمیر جواؑینٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے لیے سب سے مضبوط سیاسی مقام نہ مکمل کنارہ کشی ہے اور نہ ہی جلد بازی میں جماعت بن جانا۔ بہتر راستہ یہ ہے کہ تحریک اپنی اصل عوامی و نگرانی کی شناخت برقرار رکھے، مظفرآباد معاہدہ پر عمل درآمد کے سوال کو زندہ رکھے، اور اگر اندرونی اتفاق اور عوامی فضا اجازت دے تو صرف ایک مضبوط عوامی حقوقی چارٹر کی بنیاد پر انتخابی میدان میں قدم رکھے۔
عوام کو ایک اور شور مچاتی سیاسی مشین نہیں چاہیے۔ انہیں ایسی قوت چاہیے جو احتجاج میں بھی اصولی ہو، حکمتِ عملی میں بھی بالغ ہو، اور حکمرانی کے سوال پر بھی قابلِ اعتماد ہو۔ 2026 میں جموں کشمیر جواؑینٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے سامنے یہی تاریخی موقع ہے۔
دستاویزی بنیاد اور ماخذی نوٹ:
یہ دستاویز مظفرآباد معاہدہ کے نفاذی ریکارڈ، جموں کشمیر جواؑینٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی باضابطہ خط و کتابت، عوامی کمپلائنس اسکور کارڈ، مانیٹرنگ و امپلیمنٹیشن کمیٹی کے ٹی او آرز، 5 جنوری 2026 کے اجلاس کے منٹس، غیر علاقائی / مہاجر نشستوں سے متعلق اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کی نوٹیفکیشنز و مراسلہ جات، اور بین الاقوامی عہدنامہ برائے شہری و سیاسی حقوق کے اصولوں کی روشنی میں تیار کی گئی ہے۔ اس کا مقصد روایتی انتخابی پروپیگنڈا نہیں بلکہ عوامی مفاد، جمہوری حکمرانی اور شہری حقوق پر مبنی سنجیدہ عوامی دستاویز فراہم کرنا ہے۔راقم
٭٭٭
Share this content:


