علی وزیر نے من گھڑت ایف آئی آر سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کر دی

پاکستان کے قومی اسمبلی کے سابق رکن اور پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما علی وزیر نے اپنے خلاف درج نئی دہشت گردی کی ایف آئی آر کو چیلنج کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کے سکھر بینچ سے رجوع کر لیا ہے اور آئندہ گرفتاریوں پر روک لگانے کی استدعا کی ہے۔

درخواست آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت دائر کی گئی، جس میں دادو کے اے سیکشن تھانے میں درج ایف آئی آر نمبر 93/2026 کو “من گھڑت” قرار دیتے ہوئے کالعدم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالت سے رہائی کے چند گھنٹوں بعد دوبارہ گرفتاری “غیر آئینی اغوا” کے مترادف ہے۔

درخواست کے مطابق علی وزیر کو 16 مارچ کو سکھر سینٹرل جیل سے رہا کیا گیا، تاہم اسی رات مبینہ طور پر سادہ لباس اہلکاروں اور پولیس کی بھاری نفری نے ایک نجی مقام پر چھاپہ مار کر انہیں دوبارہ حراست میں لے لیا۔

درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ کارروائی کے دوران تشدد کیا گیا، موبائل فون ضبط کیے گئے اور وہاں موجود افراد کو دھمکیاں دی گئیں۔

پٹیشن میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ایف آئی آر میں درج الزامات زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔

درخواست گزار کے مطابق رہائی کے چند گھنٹوں کے اندر کسی مبینہ مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہونا ممکن نہیں،ایف آئی آر کا اندراج عدالت کے سابقہ احکامات کی خلاف ورزی ہے۔

ایف آئی آر میں تعزیرات پاکستان کی سنگین دفعات اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کی شقیں شامل کی گئی ہیں، جن میں ریاست مخالف نعرے، سڑک بلاک کرنے اور پولیس پر فائرنگ جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

اس سے قبل سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے علی وزیر کی نظربندی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ کسی زیر التوا مقدمے یا تفتیش کے بغیر حراست آئین کے آرٹیکل 9 کی خلاف ورزی ہے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 2024 سے علی وزیر کے خلاف مختلف صوبوں میں متعدد مقدمات اور ایم پی او کے تحت حراستی احکامات جاری کیے گئے۔

وکلاء کے مطابق جب بھی کسی مقدمے میں ضمانت ملتی ہے، کسی دوسرے ضلع میں نیا مقدمہ درج کر دیا جاتا ہے، جسے انہوں نے “عدالتی احکامات کو غیر مؤثر بنانے کی حکمت عملی” قرار دیا۔

جسٹس امجد بوہیو اور جسٹس علی حیدر ادا پر مشتمل بینچ 30 مارچ کو درخواست کی سماعت کرے گا۔

Share this content: