دنیا بھر میں ایٹمی ہتھیاروں کے بڑھتے ذخائر نے ایک بار پھر عالمی سلامتی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ International Campaign to Abolish Nuclear Weapons (ICAN) کی جانب سے جاری تازہ رپورٹ کے مطابق اس وقت تقریباً 10 ہزار ایٹمی ہتھیار ایسے ہیں جو کسی بھی وقت استعمال کے لیے تیار حالت میں موجود ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان ہتھیاروں کی مجموعی تباہ کن طاقت Hiroshima atomic bombing میں استعمال ہونے والے بم کے مقابلے میں تقریباً 135,000 گنا زیادہ بنتی ہے۔ یاد رہے کہ اگست 1945 میں جاپان کے شہر ہیروشیما پر گرائے گئے پہلے ایٹم بم میں 140,000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ICAN کے مطابق 2017 کے بعد سے ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور صرف گزشتہ سال 141 نئے ہتھیار عالمی ذخیرے میں شامل کیے گئے۔ ان میں سے کچھ ہتھیار بیلسٹک میزائلوں، آبدوزوں، موبائل لانچرز اور بمبار طیاروں پر نصب ہیں، جبکہ بڑی تعداد ریزرو میں رکھی گئی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تقریباً 2,500 ایٹمی ہتھیار اس وقت غیر فعال حالت میں ہیں اور انہیں ختم کیے جانے کا انتظار ہے، تاہم عملی پیش رفت سست روی کا شکار ہے۔
ایٹمی ہتھیار رکھنے والے ممالک میں China، India، North Korea، Pakistan اور Russia اپنے ذخائر میں اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ United States اور France بھی جدید کاری کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ دیگر ایٹمی طاقتوں میں United Kingdom اور Israel شامل ہیں۔
ICAN نے 2021 میں Treaty on the Prohibition of Nuclear Weapons (TPNW) کے نفاذ میں کلیدی کردار ادا کیا تھا، جس کے اعتراف میں اسے 2017 میں نوبل امن انعام بھی دیا گیا۔ 2025 کے اختتام تک 99 ممالک اس معاہدے کا حصہ بن چکے ہیں، تاہم تمام نو ایٹمی طاقتیں اور ان کے اتحادی، جن میں نیٹو ممالک بھی شامل ہیں، اب تک اس معاہدے سے باہر ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایٹمی ہتھیاروں میں یہ اضافہ نہ صرف اسلحہ کی نئی دوڑ کو جنم دے رہا ہے بلکہ عالمی امن کے لیے خطرات میں بھی اضافہ کر رہا ہے۔
Share this content:


