پنجاب میں سول سوسائٹی پر ریاستی دباؤ ہے، ایچ آر سی پی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں انکشاف

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) کی ایک نئی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ نے پنجاب بھر میں حقوق پر مبنی غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کے خلاف مبینہ منظم دباؤ کو بے نقاب کر دیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ریاستی و بیوروکریٹک نظام کو سول سوسائٹی کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

“ریگولیشن یا پابندی؟” — ایک تشویشناک تصویر
“Regulation or Restriction? The Shrinking Space for Rights-based NGOs in Punjab” کے عنوان سے شائع ہونے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شہری آزادیوں کی جگہ مسلسل سکڑ رہی ہے، جو ملک میں جمہوری پسماندگی کی عکاسی کرتی ہے۔ رپورٹ 29 اکتوبر سے یکم نومبر 2025 کے دوران لاہور اور ملتان میں کیے گئے چار روزہ فیکٹ فائنڈنگ مشن پر مبنی ہے، جس میں صوبے کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والی تنظیموں کے نمائندوں کے انٹرویوز شامل کیے گئے۔

ریگولیٹری نظام یا رکاوٹوں کی زنجیر؟
رپورٹ کے مطابق، این جی اوز کو کام جاری رکھنے کے لیے پیچیدہ اور کثیر سطحی منظوریوں کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ 2015 میں اقتصادی امور ڈویژن (EAD) کی غیر ملکی فنڈنگ پالیسی کے نفاذ کے بعد تنظیموں کے لیے لازم ہو گیا کہ وہ بیرونی فنڈنگ حاصل کرنے سے پہلے مفاہمتی یادداشت (MOU) حاصل کریں۔

اس کے علاوہ ضلعی انتظامیہ سے نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (NOC) اور 2018 کے بعد پنجاب چیریٹیز کمیشن کے ساتھ دوبارہ رجسٹریشن نے اس عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، بعض کیسز میں تنظیموں کو اپنے منصوبوں سے “انسانی حقوق”، “جمہوریت” اور “گورننس” جیسے الفاظ تک ہٹانے کی ہدایات دی گئیں۔

منصوبے معطل، تنظیمیں بند
رپورٹ میں متعدد مثالیں دی گئی ہیں جہاں رجسٹریشن میں تاخیر اور سرکاری رکاوٹوں کے باعث جاری منصوبے بند ہو گئے اور عطیہ دہندگان نے فنڈنگ واپس لے لی۔

ان میں ڈیموکریٹک کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ (DCHD) کا کیس نمایاں ہے، جس کے بینک اکاؤنٹس منجمد کیے گئے، چائلڈ لیبر سے متعلق منصوبے روک دیے گئے اور بالآخر تنظیم کو اپنی سرگرمیاں مکمل طور پر بند کرنا پڑیں۔

اسی طرح شمالی پنجاب میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم کے اکاؤنٹس منجمد کیے گئے، جبکہ اس کے پروگرامز متاثر ہوئے اور شرکاء کی معلومات لیک ہونے کے بعد انہیں دھمکی آمیز پیغامات بھی موصول ہوئے۔

“آج بچاؤ، کل لڑو” — این جی اوز کی حکمت عملی
رپورٹ کے مطابق، کئی چھوٹی تنظیموں نے بقا کے لیے اپنے بنیادی مشن سے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا ہے۔ بعض نے اپنی سرگرمیاں محدود کر دیں جبکہ کچھ مکمل طور پر بند ہو گئیں۔ ایک نمائندے کے مطابق:
“ہم میں سے کئی نے صرف زندہ رہنے کے لیے اپنے کام کو کم کر دیا ہے — تاکہ کسی اور دن جدوجہد جاری رکھ سکیں۔”

جمہوری عمل پر اثرات
HRCP کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال نہ صرف سول سوسائٹی بلکہ مجموعی جمہوری عمل کے لیے بھی خطرناک ہے، جہاں ریاستی نگرانی اور ریگولیٹری اقدامات کے ذریعے اختلافی آوازوں کو محدود کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ اس امر پر زور دیتی ہے کہ شفاف، سادہ اور غیر امتیازی ریگولیٹری فریم ورک کے بغیر شہری آزادیوں اور جمہوری اقدار کا تحفظ ممکن نہیں۔

Share this content: