ٹرمپ کے بیانات کی کوئی حیثیت نہیں،آبنائے ہرمز بند رہے گی، ایران

ایرانی بحریہ نے امریکی ناکہ بندی کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے آبنائے ہرمز بند کر دی ہے۔

یاد رہے کہ اس ماہ کے آغاز میں ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کی مشروط جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا، جس کے دوران آبنائے ہرمز سے بحری آمد و رفت کی اجازت دی گئی تھی۔

تاہم آج ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ کو دوبارہ بند کر دیا ہے، اور ایرانی بحریہ کا کہنا ہے کہ یہ اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکہ ایرانی جہازوں اور بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی ختم نہیں کرتا۔

اپنے تازہ بیان میں پاسدارانِ انقلاب بحریہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق ٹرمپ کے بیانات ’کوئی حیثیت نہیں رکھتے‘۔

یہ واضح نہیں کہ یہ بیان امریکی صدر کے کس مخصوص تبصرے کے حوالے سے دیا گیا ہے۔

اس سے قبل ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے رہنما آبنائے کو بند کرنا چاہتے ہیں، لیکن امریکہ انھیں ’بلیک میل‘ نہیں کرنے دے گا۔

ایران کی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ آج شام سے آبنائے ہرمز بند کر دی گئی ہے اور یہ اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکہ ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی ختم نہیں کرتا۔

بیان میں آئی آر جی سی بحریہ نے خبردار کیا ہے کہ ’کوئی بھی جہاز خلیج فارس یا بحیرہ عمان میں اپنے موجودہ مقام سے حرکت نہ کرے۔‘

اس کے مطابق کچھ جہاز گذشتہ رات سے اس کی نگرانی میں آبنائے سے گزرے تھے، تاہم اب یہ آبی گزرگاہ دوبارہ تب تک کے لیے بند کر دی جائے گی جب تک امریکہ ایرانی بندرگاہوں پر اپنی ناکہ بندی ختم نہیں کرتا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’آبنائے ہرمز کے قریب آنا دشمن سے تعاون سمجھا جائے گا، اور خلاف ورزی کرنے والے جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا۔‘

Share this content: