ناکہ بندی غلط فیصلہ ہے، ایران اور امریکہ حتمی معاہدے سے بہت دور ہیں،قالیباف

ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات میں پیش رفت ضرور ہوئی ہے، لیکن کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات ابھی بہت دور ہیں۔

اسلام آباد میں حالیہ مذاکرات میں شریک قالیباف نے ایرانی ٹیلی ویژن کو بتایا کہ یہ بات چیت 1979 کے انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ ترین سطح کی ملاقات تھی، تاہم ابھی بھی کئی خلا اور بنیادی مسائل موجود ہیں۔ اُن کے مطابق ایران نے واضح کر دیا ہے کہ اسے امریکہ پر کوئی اعتماد نہیں ہے اور امریکہ کو ایرانی عوام کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانا ہوگی۔

قالیباف نے کہا کہ اگر ایران نے جنگ بندی قبول کی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ نے ایرانی مطالبات تسلیم کیے، کیونکہ ایران نے زمین پر فتح حاصل کی۔ اُن کے مطابق امریکہ اپنے مفادات حاصل کرنے میں ناکام رہا اور آبنائے ہرمز پر ایران کا اسٹریٹجک کنٹرول برقرار ہے۔

مزید برآں، قالیباف نے امریکی ناکہ بندی کو ’غلط اور غیر دانشمندانہ فیصلہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ناکہ بندی ختم نہ کی گئی تو آبنائے ہرمز سے گزرنے کو محدود کر دیا جائے گا۔ انہوں نے ایرانی عوام کے نام اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ آبنائے ہرمز ایران کے کنٹرول میں ہے اور امریکہ کی بارودی سرنگیں صاف کرنے کی کوشش کو جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھا گیا۔

قالیباف نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے اس طرح کی کارروائی جاری رکھی تو ایران حملہ کرے گا۔ جنگ کے آغاز کے بعد سے قالیباف ایرانی قیادت کی اہم شخصیات میں شامل ہو کر ابھرے ہیں اور اسلام آباد مذاکرات میں ایرانی وفد کی قیادت بھی انہوں نے کی۔

Share this content: