یاسین ملک کیس: دہلی ہائی کورٹ میں اہم پیش رفت، سماعت جولائی تک ملتوی

نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے یاسین ملک کے خلاف اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ انہوں نے کشمیر کی علیحدگی کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے روابط کا استعمال کیا۔

عدالتی سماعت کے دوران این آئی اے نے دعویٰ کیا کہ یاسین ملک نے نہ صرف پاکستانی وزیر اعظم اور صدر کے ساتھ روابط کو استعمال کیا بلکہ بھارتی سیاست دانوں،غیر ملکی مندوبین،بیوروکریٹس اور میڈیا نمائندوںسے قربت کے دعوے بھی کیے، جن کا مقصد عوامی ہمدردی اور مقبولیت حاصل کرنا تھا۔

یہ مقدمہ دہلی ہائی کورٹ میں جسٹس نوین چاولہ اور جسٹس رویندر دودیجا پر مشتمل بینچ کے روبرو سماعت کے لیے مقرر تھا۔تاہم، یاسین ملک نے عدالت کو آگاہ کیا کہ انہیں این آئی اے کا جواب موصول نہیں ہوا، جس کے باعث کارروائی مکمل نہ ہو سکی۔

سماعت کے دوران اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر اکشائی ملک، ایڈووکیٹ خاور سلیم کے ہمراہ این آئی اے کی نمائندگی کر رہے تھے جبکہ یاسین ملک خود عدالت میں اپنے کیس کی پیروی کر رہے ہیں۔

عدالت نے سزا میں اضافے سے متعلق دلائل سننے کے لیے کیس کی سماعت جولائی تک ملتوی کر دی ہے، جہاں فریقین اپنے حتمی دلائل پیش کریں گے۔

یہ مقدمہ نہ صرف قانونی بلکہ سیاسی طور پر بھی اہمیت کا حامل ہے، جس پر آنے والے مہینوں میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔

Share this content: