کشمیر کے منقسم ریجنز: رابطے، ڈائیلاگ اور نئے سیاسی امکانات

تحریر: زاہد خان

ریاست جموں کشمیر کے منقسم حصوں! خصوصاً نام نہاد آزاد جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کے اندر خود مختاری اور آزادی کے نعرے مارنے والوں کیلئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں سرے سے کوئی حل موجود ہیں نہیں ہے۔

اقوام متحدہ کی قراردادیں صرف ایک ایف آئی آر کی حیثیت رکھتی ہیں جن کی وجہ سے ریاست جموں کشمیر کا ایشو زندہ ہے۔

اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ریاست جموں کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان متنازعہ ٹیریٹوری ہے۔ جس کا فیصلہ استصواب رائے سے ہوگا، جیسے جونا گڑھ اور حیدرآباد کا ہوچکا ہے۔

قراردادوں کے مطابق ریاست جموں کشمیر کے لوگ صرف اپنے ووٹ کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کریں گے کہ وہ بھارت کا حصہ بننا چاہتے ہیں یا پاکستان کا۔لہذا ریاست جموں کشمیر کہ لوگ اس ایشو کے فریق ہی نہیں ہیں۔

ریاست جموں کشمیر کے لوگوں کیلئے بھارت اور پاکستان کے درمیان اس تنازع کا اقوام متحدہ میں ایک "ایف آئی آر” کے طور پر رجسٹرڈ ہونا بہت اہم ہے کیونکہ اس "ایف آئی آر” نے ریاست جموں کشمیر کے لوگوں کے لئے اس ایشو کو زندہ رکھا ہوا ہے۔اور ریاست جموں کشمیر کے منقسم اور محکوم لوگوں کیلئے ابھی یہ موقع موجود ہے کہ وہ اپنے آپ کوبنیادی فریق بنا کر دونوں ممالک کو قابض ثابت کر سکتے ہیں۔

اس کے لئے ریاست جموں کشمیر کے تمام منقسم ریجنز کے لوگوں کے درمیان رابطے اور ڈائیلاگ ضروری ہیں۔تاکہ سب سے پہلے ریاست جموں کشمیر کے منقسم ریجنز کے لوگ آزادانہ آپس میں تبادلہ خیال کر سکیں۔

جب تک ریاست جموں کشمیر کے تمام ریجنز متحد نہیں ہوتے اس وقت تک نہ ریاست بھارت کا حصہ بن سکتی ہے نہ ریاست پاکستان کا حصہ بن سکتی ہے۔اور نہ ریاست کے لوگ بنیادی فریق بن کر کسی اور آپشن کو انفورس کرنے کیلئے اقوام متحدہ میں کوئی نئی قرارداد لانے کیلئے تیسرے یا بنیادی فریق کے طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو مجبور کر سکتے ہیں۔

٭٭٭

Share this content: