پاکستان کے زیر انتظام گلگت بلتستان میں سیاسی و سماجی حلقوں میں اس وقت تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، جہاں عوامی ایکشن کمیٹی (اے اے سی) کے متعدد کارکنوں کی گرفتاری اور طویل حراست نے انسانی حقوق کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق اے اے سی کے سات ارکان کو انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت 45 دن سے زائد عرصے سے حراست میں رکھا گیا ہے۔
ان پر الزام ہے کہ انہوں نے 8 مارچ کو ایک افطار ڈنر کے دوران مبینہ طور پر "ریاست مخالف” تقاریر کیں اور احتجاج کی منصوبہ بندی کی۔
تاہم، انسانی حقوق کے حلقوں کا مؤقف ہے کہ مذکورہ سرگرمیاں پرامن اجتماع اور اظہار رائے کے زمرے میں آتی ہیں، جن کی ضمانت بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے تحت دی گئی ہے۔
حراست میں لیے گئے افراد میں 70 سالہ سینئر وکیل اور اے اے سی کے چیئرپرسن احسان علی بھی شامل ہیں، جن کی صحت کے حوالے سے شدید خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
وکلاء کے مطابق احسان علی کو دوران حراست مناسب طبی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں، اور انہیں اس وقت اسپتال منتقل کیا گیا جب ان کی حالت بگڑ کر تشویشناک ہو گئی۔ انہیں نمونیا اور بے ہوشی کی حالت کے بعد ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال گلگت منتقل کیا گیا، جہاں وہ دیگر کارکنوں ابرار بہورو اور حسنین رمل کے ساتھ زیر نگرانی ہیں۔
قانونی ٹیم کا کہنا ہے کہ دل کے عارضے میں مبتلا ہونے کے باعث موجودہ طبی سہولیات ان کے لیے ناکافی ہیں۔
دوسری جانب، مقدمے میں نامزد دیگر کارکنان گرفتاری کے خدشے کے باعث زیر زمین چلے گئے ہیں یا سیاسی سرگرمیوں سے دور ہو گئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس صورتحال کے باعث 7 جون 2026 کو متوقع گلگت بلتستان انتخابات کے لیے انتخابی مہم بھی متاثر ہو رہی ہے، جس سے سیاسی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
انسانی حقوق کے عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس معاملے پر فوری ردعمل دیتے ہوئے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام گرفتار کارکنوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور ان پر عائد الزامات ختم کیے جائیں۔
ادارے کا کہنا ہے کہ اگر رہائی میں تاخیر ہو تو کم از کم قیدیوں کو فوری اور مناسب طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
یہ معاملہ ایک بار پھر اس بحث کو جنم دے رہا ہے کہ ریاستی سلامتی اور شہری آزادیوں کے درمیان توازن کیسے قائم رکھا جائے۔
ماہرین کے مطابق اگر پرامن سیاسی سرگرمیوں کو بھی سخت قوانین کے تحت دبایا جائے تو یہ جمہوری عمل اور بنیادی حقوق کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
Share this content:


