راولاکوٹ: احتجاجی دھرنے پر فورسز کا دھاوا، فائرنگ اور شیلنگ سے درجنوں زخمی، صورتحال کشیدہ

راولاکوٹ /کاشگل نیوزخصوصی رپورٹ

پاکستان زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے شہر راولاکوٹ میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے جہاں احتجاجی دھرنے پر سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کی جانے والی کارروائی میں درجنوں نہتے مظاہرین زخمی ہو گئے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق فورسز نے دھرنے کے مقام کو چاروں اطراف سے گھیر لیا اور قریبی عمارتوں کی چھتوں پر اہلکار تعینات کر کے مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ کی۔

اطلاعات کے مطابق کارروائی کے دوران براہِ راست فائرنگ سے متعدد افراد زخمی ہوئے، جن میں سے 2 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

مظاہرین کا دعویٰ ہے کہ سی ایم ایچ (CMH) جیسے حساس علاقے میں بھی شیل پھینکے گئے، تاہم اس جبر کے باوجود عوام کا جم غفیر اپنی جگہ پر ڈٹا ہوا ہے۔

سیکیورٹی فورسز کی جانب سے تحریک کے قائدین کے گھروں پر چھاپوں کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ کور ممبر شوکت نواز میر کے گھر پر مارے گئے چھاپے کے دوران ان کی ہمشیرہ، پروفیسر نازنین حبیب میر کے ساتھ انتہائی نازیبا سلوک کی اطلاعات ملی ہیں۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی رپورٹس اور عوامی حلقوں کے مطابق چھاپے کے دوران انہیں گھسیٹا گیا اور بدتمیزی کی گئی، جسے انسانیت اور قانون کے منافی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی جا رہی ہے۔

دھرنے کے دوران شہید ہونے والے نوجوان شاہزیب کے بھائی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے دوٹوک اعلان کیا ہے کہ جب تک واقعے کی ایف آئی آر درج نہیں کی جاتی اور عوامی نمائندوں پر لگائے گئے دہشت گردی کے الزامات واپس نہیں لیے جاتے، تب تک شہید کا جنازہ نہیں پڑھا جائے گا اور نہ ہی تدفین ہوگی۔

آج ریاست بھر میں احتجاجی کال پر مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال رہی، جس کے دوران تمام کاروباری مراکز بند اور سڑکیں سنسان رہیں۔ راولاکوٹ میں عوام کی ایک بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی ہے اور فورسز کی پیش قدمی کے خلاف مزاحمت جاری ہے۔

آزاد ذرائع کا کہنا ہے کہ علاقے میں کشیدگی برقرار ہے اور مظاہرین اپنے مطالبات کی منظوری تک پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔

Share this content: