پاکستان زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے شہر راولاکوٹ میں احتجاجی مظاہروں اور سکیورٹی آپریشن کے دوران صورتحال قابو سے باہر ہو گئی ہے۔
مظاہرین پر فورسز کی مبینہ سیدھی فائرنگ کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کی اطلاعات ہیں، جس کے باعث پورے خطے میں شدید غم و غصہ اور ریاستی و مقامی حکومت کے خلاف گہری نفرت کی لہر دوڑ گئی ہے۔
عینی شاہدین اور مقامی ذرائع کے مطابق جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاجی مقامات پر تعینات فورسز نے نہتے مظاہرین کو کچلنے کے لیے وحشیانہ طریقے اپناتے ہوئے اندھا دھند اور براہِ راست اسٹریٹ فائرنگ کی ہے۔
زمینی اطلاعات کے مطابق سڑکیں زخمیوں اور لاشوں سے بھر گئیں۔ جانی نقصان کے حوالے سے مختلف ذرائع سے درج ذیل اعداد و شمار سامنے آ رہے ہیں:
مقامی و زمینی ذرائع مقابق مبینہ طور پر کم از کم 8 سے 10 افراد کے ہلاک ہونے اور 150 سے زائد شہریوں کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
: راولاکوٹ کے کمشنر سردار وحید نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس رپورٹ کے مطابق مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان ہونے والی ان جھڑپوں میں 4 پولیس اہلکار (جن میں ایک سب انسپکٹر بھی شامل ہے) ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ 50 سے زائد افراد زخمی ہیں۔
شدید ترین جھڑپیں کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (CMH / شیخ خلیفہ بن زاید ہسپتال) کے باہر ہوئیں، جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مظاہرین کے درمیان آمنا سامنا ہوا۔
اطلاعات کے مطابق فورسز کی کارروائی کے دوران متعدد مظاہرین کو گرفتار کر کے نامعلوم مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے انہیں لاپتہ کیے جانے کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
علاقے میں انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کو مکمل طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ اس ڈیجیٹل بلیک آؤٹ کے باعث راولاکوٹ کی اصل اور حتمی صورتحال واضح ہونے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، تاہم وہاں سے پہنچنے والی غیر سرکاری اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں جن کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی ہے۔
شہر میں تاحال شدید کشیدگی برقرار ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ نہتے شہریوں پر طاقت کا وحشیانہ استعمال کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
دوسری جانب کور ممبر شوکت نواز میر کے گھر پر حالیہ چھاپے کے دوران ان کی ہمشیرہ پروفیسر نازنین حبیب میر کے ساتھ بدسلوکی اور گھسیٹے جانے کے واقعے (جس کا ثبوت سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تصویر "image_4a2786.jpg” سے بھی ملتا ہے) نے عوامی غصے کو مزید ہوا دی ہے۔
ایکشن کمیٹی اور ورثا کا موقف ہے کہ جب تک فورسز کی فائرنگ اور بدسلوکی کے واقعات کے خلاف ایف آئی آر (FIR) درج نہیں ہوتی اور دہشت گردی کے مقدمات واپس نہیں لیے جاتے، تب تک ہلاک ہونے والے افراد کی تدفین نہیں کی جائے گی۔
Share this content:


