پاکستان زیرِ انتظام جموں کشمیر میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی اپیل پر آج 9 جون کو دارالحکومت مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کے سلسلے میں ریاست بھر سے قافلے نکلنا شروع ہو گئے ہیں۔
دوسری جانب، پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری، جس میں پاکستان آرمی، رینجرز اور ایف سی (FC) شامل ہیں، ہر جگہ تعینات ہے اور مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے اسٹریٹ فائرنگ اور شدید آنسو گیس کا استعمال کر رہی ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق بھمبر، برنالہ، سماہنی اور میرپور سے عوامی قافلے روانہ ہو چکے ہیں۔ جگہ جگہ رینجرز، ایف سی اور پولیس نے خاردار تاریں اور بڑی رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں، تاہم بپھرے ہوئے عوامی قافلے ان رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں۔
شیڈول کے مطابق میرپور ڈویژن کے یہ قافلے آج رات راولاکوٹ میں پڑاؤ کریں گے، جہاں کل 10 جون کو پونچھ ڈویژن کے قافلوں کے ساتھ مل کر مشترکہ طور پر مظفرآباد کی جانب حتمی مارچ کا آغاز کیا جائے گا۔
گزشتہ روز راولاکوٹ میں دھرنے پر فورسز کی جانب سے کی جانے والی خونی چڑھائی کے بعد صورتحال انتہائی مخدوش ہے۔
مقامی ذرائع اور مظاہرین کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ فورسز کی وحشیانہ فائرنگ سے تقریباً 4 درجن (48 کے قریب) افراد کو قتل کر دیا گیا ہے۔
انٹرنیٹ اور فون سروسز کی مکمل بندش اور بلیک آؤٹ کی وجہ سے معلومات تک رسائی انتہائی مشکل ہے، تاہم انٹرنیٹ پر سامنے آنے والی چند ہولناک ویڈیو فوٹیجز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ راولاکوٹ ہسپتال کے سامنے دھرنے کی جگہ پر سڑکیں مکمل طور پر خون سے سرخ ہو چکی ہیں، جو بڑے پیمانے پر ہونے والی ہلاکتوں کا واضح ثبوت ہے۔
ذرائع کے مطابق راولاکوٹ کا کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (CMH) اس وقت مکمل طور پر فوج کے کنٹرول میں ہے، جہاں کسی بھی عام شہری یا میڈیا کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ہسپتال کے اندر کتنی لاشیں اور کتنے زخمی موجود ہیں، اس حوالے سے شدید سنسنی پھیلی ہوئی ہے۔
دوسری جانب متعدد خاندانوں کا کہنا ہے کہ ان کے فیملی ممبران لاپتہ ہیں جن کا کوئی سراغ نہیں مل رہا۔ عوامی حلقوں کی جانب سے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ لاپتہ افراد فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہو چکے ہیں اور اب ہسپتال کو کنٹرول میں لے کر اس بڑے سانحے کے ثبوت مٹانے اور اسے چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
پورے خطے میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہے اور فورسز کو "دیکھتے ہی گولی مارنے” کے احکامات کے باوجود عوام کی ایک بہت بڑی تعداد اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر لانگ مارچ کا حصہ بن رہی ہے۔
عوامی ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ گولیوں، شیلنگ اور مواصلاتی ناکہ بندی کے ذریعے عوامی تحریک کو دبایا نہیں جا سکتا اور یہ مارچ اپنے مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔
Share this content:


