راولاکوٹ / کاشگل نیوز
پاکستان زیر انتظام جموں و کشمیر میں جاری احتجاجی تحریک کے باعث پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال آج اٹھارویں روز میں داخل ہو گئی، جبکہ انٹرنیٹ سروس کی بندش کو بھی بیس دن مکمل ہو گئے ہیں۔
مسلسل ہڑتال اور مواصلاتی نظام کی معطلی کے باعث معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہو چکے ہیں اور خطے میں معاشی، سماجی اور انسانی بحران کی صورتحال پیدا ہونے لگی ہے۔
مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق حکومت کی جانب سے احتجاجی سرگرمیوں کے ردعمل میں مبینہ طور پر انتقامی کارروائیاں جاری ہیں۔ متعدد شہروں اور قصبوں میں کاروباری مراکز کو سیل کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے باعث تاجروں اور کاروباری طبقے میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
دوسری جانب خوراک اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل بھی ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق مری کے مقام پھگواڑی میں گندم سے لدے تقریباً بیس ٹرک کئی روز سے کھڑے ہیں جنہیں آگے پاکستان زیر انتظام جموں و کشمیر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
گندم کی ترسیل میں رکاوٹ کے باعث آٹے اور دیگر ضروری اشیائے خوردونوش کی قلت کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال اسی طرح برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں خطے کو خوراک کے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی بنیادوں پر خوراک اور ادویات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
پاکستان زیر انتظام جموں و کشمیر کے عوام نے عالمی برادری، بین الاقوامی میڈیا اور عالمی اداروں بالخصوص World Health Organization (WHO) اور World Food Programme (WFP) سے اپیل کی ہے کہ وہ خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال کا نوٹس لیں اور متاثرہ آبادی کو فوری طور پر خوراک اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے اقدامات کریں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کی طویل بندش، کاروباری سرگرمیوں کی معطلی، اشیائے ضروریہ کی قلت اور حکومتی کارروائیوں نے عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے اور صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے۔
لاک ڈائون کے دوران کئی علاقوں میں احتجاجی مظاہرے ، جلسے ، دھرنے اور ریلیوں کا سلسلہ جاری ہے جس میں ہزاروں کی تعداد میں خواتین بچوں کی بھی بڑی تعداد شریک ہے اور پاکستانی ریاست کی جبر کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
Share this content:


