ایران کے نیو کلیئرپلانٹ پر حملہ ،اسرائیل کی تصدیق ، آئی اے ای اے کا تحمل کا مطالبہ

ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے (اے ای او آئی) کے پبلک ریلیشنز آفس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بوشہر جوہری پاور پلانٹ کی سائٹ پر آج دوبارہ حملہ کیا گیاہے۔دوسری جانب اسرائیل نے ایران پر تازہ حملوں کی تصدیق کی ہے جبکہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی آئی اے ای اے نے تحمل کا مطالبہ کیا ہے ۔

ایران نے بو شہر نیو کلیئر پلانٹ پر تازہ حملے پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ حملہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے ’جاری سلسلے‘ کا حصہ ہے۔ اس میں کہا گیا کہ واقعے سے ’کوئی مالی یا تکنیکی نقصان نہیں ہوا، اور نہ ہی کسی کے جانی نقصان کا اندیشہ ہے‘، اور ’سہولت کے کسی بھی حصے کو نقصان نہیں پہنچا۔‘

اے ای او آئی کے مطابق یہی جوہری پاور پلانٹ 17 مارچ کو بھی ہدف بنایا گیا تھا، لیکن اس واقعے میں بھی کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

ادارے نے ان حملوں کی مذمت کی اور انھیں ’پرامن جوہری تنصیبات‘ پر خطرناک حملہ قرار دیا اور خبردار کیا کہ اس طرح کے اقدامات خطے کی سلامتی اور حفاظت کے لیے ’خطرناک اور ناقابلِ تلافی نتائج‘ پیدا کر سکتے ہیں، ’خاص طور پر خلیج کے ساتھ واقع ممالک کے لیے‘۔

ایران کا واحد فعال جوہری پاور پلانٹ جنوبی شہر بوشہر میں واقع ہے اور اسے روس کی مدد سے مکمل کیا گیا تھا۔

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ ایران نے ادارے کو آگاہ کیا کہ ایک اور میزائل نے ایران کے بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کے احاطے کو ’نشانہ بنایا‘ ہے۔

ادارے کے مطابق ’ایران کے مطابق پاور پلانٹ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور عملے کے اراکین بھی اس حملے میں محفوظ رہے ہیں۔ ایرانی انتظامیہ کے مطابق پاور پلانٹ بھی معمول کے مطابق کام کر رہا ہے۔‘

آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی نے تنازع کے دوران جوہری تنصابات کے خطرات کی حفاظت کو یقینی بنانے اور ساری صورتحال میں ’انتہائی تحمل‘ سے کام لینے کی اپنی اپیل کو دہرایا ہے۔

گزشتہ ہفتے بھی ایران کے اس واحد فعال جوہری بجلی گھر جو جنوبی شہر بوشہر میں نشانہ بنایا گیا تھا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تھی۔

اسرائیلی دفاعی افواج کا کہنا ہے کہ انھوں نے تہران میں نئے حملوں کا آغاز کر دیا ہے، جس میں دارالحکومت تہران بھر میں ’ایرانی دہشت گرد حکومت‘ کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

بی بی سی نے ابھی شہر کے اندر موجود ذرائع سے سنا ہے جو تہران کے مشرق، شمال اور مرکز میں دھماکوں کی اطلاعات دے رہے ہیں۔

تہران سے موصول ہونے والی تازہ تصاویر میں شہر کے مرکز سے اُٹھتے دھوئیں کے سیاہ بادل دیکھے جا سکتے ہیں۔

Share this content: