ابرار بگور اور میر بابر کی بلاجواز گرفتاری ریاستی جبر کی واضح مثال ہے،بی این ایف

بی این ایف ڈسٹرکٹ گلگت عوامی ایکشن کمیٹی کے بے باک اور حق گو رہنماؤں، ابرار بگور اور میر بابر کی بلاجواز گرفتاری کو ریاستی جبر کی کھلی مثال قرار دیتے ہوئے سخت ترین الفاظ میں مسترد کرتا ہے۔

ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ احسان علی ایڈووکیٹ سمیت تمام اسیرانِ حق کو فوری طور پر رہا کیا جائے، بصورت دیگر عوامی ردعمل کی تمام تر ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوگی۔

یہ وہ رہنما ہیں جنہوں نے گلگت بلتستان کے عوام پر مسلط استحصالی نظام، وسائل کی لوٹ مار، زمینوں اور معدنیات پر قبضے اور منظم ناانصافی کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا۔ انہوں نے غلامی کے اندھیروں میں شعور کی شمع روشن کی اور مظلوم عوام کی آواز بن کر کھڑے ہوئے۔

ریاستی اداروں کی جانب سے اے ٹی اے اور دیگر کالے قوانین کا سہارا لے کر ان رہنماؤں کو دبانے کی کوشش دراصل حق اور سچ سے خوف کی علامت ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسے ہتھکنڈے نہ کبھی سچ کو دبا سکے ہیں اور نہ آئندہ دبا سکیں گے۔

ہم خبردار کرتے ہیں کہ اگر یہ جبر جاری رہا تو عوام خاموش تماشائی نہیں رہیں گے۔ شعور یافتہ عوام ہر قسم کے استحصالی نظام کے خلاف اپنی آئینی، جمہوری اور پرامن مزاحمت کو مزید تیز کریں گے۔

یہ تحریک کسی فرد کی نہیں بلکہ ایک قوم کی بیداری کی علامت ہے—اور اسے طاقت کے زور پر کچلنا ممکن نہیں۔

Share this content: