گلگت بلتستان: ہوٹل ایسوسی ایشن نے نئے ٹیکسوں کا حکومتی نفاذ مسترد کردیا

گلگت / کاشگل نیوز

پاکستان کے زیر انتظام گلگت بلتستان میں گلگت بلتستان ہوٹل ایسوسی ایشن کا ایک اہم ہنگامی اجلاس آواری ایکسپریس ہوٹل، گلگت میں منعقد ہوا، جس میں حکومت کی جانب سے ہوٹل انڈسٹری پر نئے ٹیکسز کے نفاذ کی کوشش کو یکسر مسترد کر دیا گیا۔

اجلاس میں ممبران نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سیاحت اس وقت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے جبکہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث امن و امان کی صورتحال بھی دن بدن تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔ ہوٹل انڈسٹری کو بجلی، پانی اور گیس جیسی بنیادی سہولیات کی شدید قلت کا سامنا ہے، جس کے باعث کاروبار چلانا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔

ممبران نے اس بات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا کہ پی آئی اے کی پروازوں کی مسلسل منسوخی، پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں تقریباً 100 فیصد اضافے، اور ٹرانسپورٹ و فضائی کرایوں میں غیر معمولی اضافے نے سیاحوں کی آمد کو تقریباً ختم کر دیا ہے۔

مزید برآں، اسلام آباد سے گلگت پہنچنے کے لیے سیاحوں کو قراقرم ہائی وے پر طویل، خطرناک اور دشوار گزار سفر کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو سیاحت کے فروغ میں ایک بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔

پریس ریلیز میں مزید کہا گیا کہ ایسے نازک حالات میں ہوٹلوں، ریسٹورنٹس، ٹرانسپورٹ کمپنیوں، کارخانوں اور دیگر چھوٹے کاروباروں پر نئے صوبائی ٹیکسز کا نفاذ سیاحت سے وابستہ لاکھوں افراد کو بے روزگار کرنے کے مترادف ہے اور یہ اقدام غریب عوام پر مزید معاشی بوجھ ڈالنے کا سبب بنے گا۔

اجلاس میں ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ گلگت بلتستان کی جانب سے ہوٹل مالکان کو ہراساں کرنے کے اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور ٹیکسز کے اطلاق پر عملدرآمد کے احکامات کو فوری طور پر معطل کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

مزید برآں، گلگت بلتستان ہوٹل ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ چین سے گلگت بلتستان سیاحوں کو لانے کے لیے خصوصی سہولیات فراہم کی جائیں، این او سی (NOC) کے پیچیدہ نظام کو ختم کیا جائے اور سرحدی سیاحت کو فروغ دینے کے لیے پالیسی میں نرمی لائی جائے تاکہ بین الاقوامی سیاحت کو بحال کیا جا سکے۔

گلگت بلتستان ہوٹل ایسوسی ایشن نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ معاشی بحران کے پیش نظر سیاحت کے شعبے سے وابستہ افراد کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے، نئے ٹیکسز واپس لیے جائیں، اور آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ اس اہم صنعت کو مکمل تباہی سے بچایا جا سکے۔

Share this content: