پاکستانی جموں کشمیر میں انقلاب کی دہلیز پر کھڑی تحریک اور متبادل نظام کا سوال

تحریر: خواجہ کبیر احمد

جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی حالیہ پیش رفت کو اگر محض بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات کی روشنی میں دیکھا جائے تو ایک حقیقت اب ابہام سے نکل کر واضح شکل اختیار کر چکی ہے کہ یہ تحریک مزاحمت کے مرحلے سے آگے بڑھ کر انقلاب کی سمت گامزن ہو چکی ہے۔ مگر اسی کے ساتھ ایک دوسرا، اتنا ہی اہم سوال سر اٹھا رہا ہے کہ کیا اس ممکنہ انقلاب کے پاس کوئی واضح متبادل نظام موجود ہے؟

تحریکوں کی اصل پہچان ان کے اقدامات ہوتے ہیں، اور اس وقت جو سلسلہ نظر آ رہا ہے جیسے ڈیڈ لائنز کا تعین، لانگ مارچ کی تیاری، غیر معینہ مدت کے لاک ڈاؤن اور دھرنوں کی حکمت عملی، اور عوام کو طویل جدوجہد کے لیے تیار کرنے کی عملی ہدایات، یہ سب اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ تحریک واقعی وقتی احتجاج سے نکل کر ایک ہمہ گیر عوامی مزاحمت میں تبدیل ہو چکی ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں مزاحمت اپنی شدت اور وسعت کے باعث انقلاب کی دہلیز پر پہنچ جاتی ہے۔

خاص طور پر عوامی جڑوں تک پھیلاؤ کے ساتھ لانگ مارچ کی منصوبہ بندی اور اس کے بعد مسلسل دھرنے اور لاک ڈاؤن کا عندیہ اس امر کا اظہار ہے کہ تحریک اب محض مطالبات منوانے کے لیے نہیں بلکہ طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کے لیے آگے بڑھ رہی ہے۔ جب سڑکیں فیصلہ کن ہو جائیں اور ریاستی نظم و نسق براہِ راست عوام کے زیر اثر آ جائے تو پھر معاملہ صرف احتجاج کا نہیں رہتا یہ ایک نئے مرحلے کا آغاز ہوتا ہے۔

مگر یہاں ایک بنیادی حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا وہ یہ کہ انقلاب صرف مزاحمت کی شدت سے نہیں بلکہ متبادل نظام کی وضاحت سے کامیاب ہوتا ہے۔

اس وقت تحریک کی رفتار قابلِ ذکر ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک فکری اور عملی خلا بھی موجود ہے۔ اگر موجودہ نظام کو چیلنج کیا جا رہا ہے تو اس کی جگہ کیا آئے گا؟ حکمرانی کا ڈھانچہ کیسا ہوگا؟ اختیارات کی تقسیم کس بنیاد پر ہوگی؟ احتساب کا نظام کیسے کام کرے گا؟ اور سب سے بڑھ کر، عوام کو وہ کون سا عملی ماڈل دیا جائے گا جس پر وہ اعتماد کر سکیں؟

یہ وہ سوالات ہیں جو کسی بھی تحریک کو مزاحمت سے ایک منظم انقلاب میں تبدیل کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ جہاں یہ وضاحت موجود نہ ہو، وہاں یا تو تحریکیں بکھر جاتی ہیں یا پھر وہی پرانا نظام نئے چہروں کے ساتھ واپس آ جاتا ہے۔ کیونکہ طاقت کا خلا کبھی خالی نہیں رہتا ۔اگر آپ اسے پُر نہیں کریں گے تو کوئی اور کر دے گا۔

اس لیے موجودہ صورتحال میں تحریک ایک دوہرے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ ایک طرف اس کی رفتار اور دباؤ اسے انقلاب کے قریب لے جا رہے ہیں، اور دوسری طرف متبادل نظام کی عدم وضاحت اسے ایک غیر یقینی انجام کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

اب اصل چیلنج صرف مزاحمت کو بڑھانا نہیں بلکہ اسے سمت دینا ہے۔ ایک واضح، قابلِ عمل اور عوامی متبادل پیش کیے بغیر کوئی بھی تحریک اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکتی۔

یہ کہنا تو درست ہو سکتا ہے کہ یہ تحریک مزاحمت سے انقلاب کی طرف بڑھ رہی ہے۔مگر اس انقلاب کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا اس کے پاس ایک واضح منزل بھی ہے یا نہیں۔کیونکہ اصول بالکل سادہ ہے کہ مزاحمت کی رفتار انقلاب کو جنم دیتی ہے، مگر تحریک کی واضح سمت اسے کامیاب بناتی ہے۔

٭٭٭

Share this content: