مہاجر نشستوں کے معاملے پر حکومت کا مؤقف برقرار، سپریم کورٹ نے آئینی ترمیم کو ناگزیر قرار دے دیا

مظفرآباد /کاشگل نیوز

پاکستان زیر انتظام جموں و کشمیر کے آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ نے مہاجرین کی 12 مخصوص نشستوں سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ مذکورہ نشستیں آئین کے آرٹیکل 22 کے تحت مکمل آئینی تحفظ رکھتی ہیں اور ان میں کسی بھی قسم کی تبدیلی انتظامی فیصلے کے ذریعے ممکن نہیں۔

صدر آزاد کشمیر کی جانب سے حکومت کے مشورے پر آئین کے آرٹیکل اے-46 کے تحت دائر کیے گئے صدارتی ریفرنس پر رائے دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ مہاجر نشستوں کی تعداد، حیثیت یا تقسیم میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کے لیے آئین کے آرٹیکل 33 کے تحت باقاعدہ آئینی ترمیم ناگزیر ہوگی۔

عدالتِ عظمیٰ نے اپنی رائے میں کہا کہ آزاد کشمیر کے آئینی اور سیاسی معاملات کا فیصلہ سڑکوں پر ہونے والے احتجاج سے نہیں بلکہ آئین اور قانون کی بالادستی کے تحت کیا جانا چاہیے۔ سپریم کورٹ نے مزید قرار دیا کہ باقی ماندہ آئینی امور منتخب قانون ساز اسمبلی کے سپرد کیے جائیں اور کسی بھی آئینی تبدیلی کے لیے عوامی مینڈیٹ، پارلیمانی مباحثے اور آئینی طریقۂ کار کو اختیار کیا جائے۔

سپریم کورٹ نے انتظامیہ کو بھی یاد دہانی کرائی کہ عوامی امن، آئینی نظم و نسق اور قانون کی حکمرانی برقرار رکھنا ریاستی اداروں کی آئینی ذمہ داری ہے۔

سپریم کورٹ کی اس رائے کو مہاجر نشستوں کے معاملے پر حکومت کے مؤقف کی توثیق قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ اس فیصلے کے بعد مستقبل میں کسی بھی تبدیلی کے لیے آئینی ترمیم کا راستہ اختیار کرنا ضروری ہوگا۔

Share this content: