کشمیر میں مکمل ہڑتال ،لانگ مارچ شروع،انٹرنیٹ سروسز بند،حکومتی اراکین اسلام آباد منتقل

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سات جون سے شروع ہونے والی جزوی پہیہ جام شٹر ڈائون ہڑتال آج تیسرے روز میں داخل ہو چکی ہے۔

مظفرآباد سمیت ہونچھ ڈویزن بھر میں پہیہ جام شٹر ڈاون ہڑتال جاری ہے تاہم دوسری جانب آج میر پور ڈویژن سے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے بھمبر سے لانگ مارچ کے آغا کا اعلان کر رکھا ہے آج رات یہ قافلے پونچھ ڈویزن میں داخل ہو کر ضلع راولاکوٹ میں پڑاو ڈالیںگےحکو۔

مت کی جانب سے کالعدم قرار دی جانے والی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اعلان کر رکھا ہے کہ دس جون کو میرپور ڈویژن سے مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا آغاز ہو چکا ہے۔

مقامی صحافی کے مطابق اس مارچ ہزاروں لوگ ہیں جبکہ پولیس نے پانچ سو افراد کی تصدیق کی ہے۔

مظفرآباد کی بات کی جا ئے تو تمام چھوٹے بڑے تجارتی مراکز بند ہیں ،سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے۔ شاہرات پر اکثر نظر آنے والے سرکاری گاڑیاں سرے سے ہی غائب ہیں ۔دوسری طرف تمام حکومتی اراکین بھی منظر عام سے غائب ہیں ، خطے کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور بھی پانچ جون کی شام سے اسلام آباد منتقل ہو گئے تھے۔

خطے میں چھ اور سات جون کی شب سے انٹرنیٹ سروس بد دستور معطل ہے۔

چھ جون کو مبینہ طور پر نقاب پوشوں کی فائرنگ سے عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکن شاہزیب حبیب ہلاک ہو گئے تھے ان کی میت سمیت پونچھ ڈویژن میں مبینہ طور پر فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے دیگر 6 عام شہریوں کی میتیں ورثا کے حوالے نہیں کی گئیں۔

کمشنر پونچھ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انتظامیہ نے خود ان کی لاشیں دفنا دی ہیں تاہم انھوں نے اس بات سے لا علمی کا اظہار کیا کہ انھیں کس مقام پر دفنایا گیا ہے ضلع راولاکوٹ میں جھڑپوں میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ گزشتہ روز راولاکوٹ میں ادا کر دی گی ہے جس میں جی او سی مری پاکستان زیر انتظام کشمی کے چیف سیکٹری اور انسپکٹر پولیس پاکستان زیر انتظام کشمیر نے شرکت کی۔

عوامی ایکشن کمیٹی نے نو جون سے پہیہ جام شٹر ڈاون کا اعلان کر رکھا تھا تاہم اس سے قبل ہی چھ جوں کی شب کور ممبر جیک کے اوپر مبینہ فائرنگ اور ان کے ساتھی کے ہلاکت کے بعد خطے میں سیاسی درجہ حرارت بڑھ چکا ہےاور اس وقت پورے کشمیر میں دفعہ 144 کا نفاذ ہے۔

دو روز قبل جاری ہونے والی پولیس پریس ریلز کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی کے 72 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے تاہم ابھی تک انھیں کسی عدالت میں نہیں پیش کیا جا سکا ۔ کمیٹی کے مظفرآباد ڈویژن سے دو کور ممبران راجہ امجد ایڈووکیٹ اور انجم الزمان جبکہ میرپور ڈویزن سے کور ممبر توصیف جرال کو حراست میں لینے کی بھی تصدیق کی ہے ۔

Share this content: