ہجیرہ/ کاشگل نیوز
پاکستان زیر انتظام جموں و کشمیر میں جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کے چیئرمین اور سابق بار صدر واجد علی ایڈووکیٹ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ عوامی حقوق کی موجودہ تحریک گزشتہ تین سال سے پرامن انداز میں جاری ہے۔ ان کے مطابق اس پورے عرصے کے دوران احتجاج کرنے والے عوام نے صبر، تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نہ کسی سرکاری عمارت کو نقصان پہنچایا گیا، نہ کسی عوامی یا نجی املاک کو نقصان پہنچا اور نہ ہی تشدد کا راستہ اختیار کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام صرف اپنے بنیادی حقوق، انصاف، روزگار، تعلیم، صحت اور بہتر طرزِ زندگی کا مطالبہ کر رہے ہیں، جو ہر مہذب معاشرے میں شہریوں کا بنیادی حق سمجھا جاتا ہے۔
واجد علی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ اس کے باوجود پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور حکومتی ادارے نہتے اور پرامن شہریوں کے خلاف طاقت کا استعمال کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فائرنگ اور کریک ڈاؤن کے نتیجے میں کئی لوگ جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ان کے مطابق یہ صورتحال انتہائی افسوسناک ہے اور اس کے باعث عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ کسی ملک کے خلاف جنگ نہیں بلکہ بنیادی انسانی اور جمہوری حقوق کے حصول کی جدوجہد ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ریاست عوام کی آواز سننے کے بجائے طاقت، جبر اور تشدد کا راستہ اختیار کرتی ہے اور عوام پر مزید دباؤ ڈالتی ہے تو حالات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ جنگ عوام پر مسلط کی گئی تو وہ اسے آخری دم تک لڑنے پر مجبور ہوں گے، جبکہ ایسی صورتحال سے بچنے کی ذمہ داری ریاست اور متعلقہ اداروں پر عائد ہوتی ہے۔
چیئرمین جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی نے پاکستانی ریاست اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ ہوش کے ناخن لیں، طاقت کے استعمال اور انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کا سلسلہ بند کریں، سیاسی اور عوامی مطالبات کو سنجیدگی سے سنیں اور مسائل کا حل مذاکرات اور انصاف کے ذریعے تلاش کریں۔
انہوں نے کہا کہ جبر اور تشدد کبھی بھی عوامی مسائل کا مستقل حل نہیں بن سکتے، جبکہ امن، انصاف اور عوامی حقوق کا احترام ہی خطے میں استحکام اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔
Share this content:


